بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/08/2026 |
زمین اور جنگل میں زکوۃ اور عشر کا حکم
سوال
کیا فرمائے ہے علماء کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک شخص کے زمین پر لاچی کے درختوں کا جنگل ہے جو دو تین سال کے بعد اس جنگل کے لکڑیوں کو فروخت کرکے اس کے پیسے اپنے ضروریات میں استعمال کرتا ہے تو کیا یہ زمیں اور جنگل ضرورت اصلی میں داخل ہوگا یا نہیں اور اس شخص پر زکاہ عشر یا قربانی فرض یا واجب ہے کہ نہیں
جواب
جس شخص کی ملکیت میں ضرورت اصلیہ سے زائد زمین،مکان یا دوکان وغیرہ ہواگر اس کی آمدنی اتنی کم ہو کہ اس کا گزربسر اس پرنہ ہوتا ہوتو اس کی قیمت سے یہ غنی شمار نہ ہوگا لیکن اگر اس کی سالانہ آمدنی اخراجات سے زائد ہو تو ایسی صورت میں اس جائیداد کی قیمت کا حساب لگایا جائے گا،اگر وہ مقدار نصاب تک پہنچ جائے تو اس کا مالک غنی متصور ہوگا،لہذا اس پر قربانی وصدقہ فطر واجب ہے اور وہ زکوۃ نہیں لے سکتا۔
صورت مسئولہ میں جس شخص کی زمین پر لاچی کے درختوں کا باغ ہےاور اس باغ کی لکڑیوں کو فروخت کرکے اپنی ضروریات پوری کرتا ہےتو اس زمین کی قیمت سے یہ شخص غنی متصور نہ ہوگاکیونکہ وجوب زکوۃ کے لیے حاجت اصلیہ سے زائدہونا ضروری ہے۔تاہم اگر مذکورہ زمین سے سالانہ اتنی مقدار میں آمدنی حاصل کی جاتی ہو جوسال بھر کی ضروریات سے زائد ہو تو ایسی صورت میں اس جائیداد کی قیمت اگر نصاب تک پہنچتی ہو تو یہ غنی متصور ہوگا لہذااس پر قربانی اور صدقہ فطر واجب ہوگا۔نیزجب بھی ان درختوں کی کٹائی کی جائیگی تو اس میں یا فروخت کرنے کے بعد اس کی قیمت میں عشر واجب ہوگا بشرطیکہ زمین بارانی ہو۔اور اگر بارانی نہ ہو بلکہ اس کی سیرابی پر اس کا خرچ آتا ہو تو نصف عشر واجب ہوگا۔
سئل محمد عمن لہ ارض یزرعھا او حانوت یستغلھا او دار غلتھا ثلاث آلاف ولا تکفي لنفقتہ ونفقۃ عیالہ سنۃ؟یحل لہ اخذ الزکاۃ وان کانت قیمتھا تبلغ الوفا وعلیہ الفتوی۔(رد المحتار علی الدر المختار،باب مصرف الزکوۃوالعشر ج3 ص296)
ولو کان لہ ضیعۃ تساوی ثلاثۃ آلاف،ولا تخرج ما یکفي لہ ولعیالہ اختلفوا فیہ قال محمد بن مقاتل یجوز لہ اخذ الزکاۃ۔(الفتاوی الھندیۃ،کتاب الزکاۃ ج1 ص189)
وکذا لو کان لہ حوانیت او دار غلۃ تساوی آلاف درھم وغلتھا لا تکفي لقوتہ وقوت عیالہ یجوز صرف الزکاۃ الیہ فی قول محمد ؒ۔(الفتاوی الھندیۃ،کتاب الزکاۃج1 ص189)
ویحل لمن لہ دور وحوانیت تساوی نصبا،وھو محتاج لغلتھا لنفقتہ ونفقۃ عیالہ علی خلاف فیہ ولمن عندہ طعام سنۃ تساوی نصابا لعیالہ علی ما ھو الظاھر۔(البحر الرائق،کتاب الزکاۃ ج2 ص427)