بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

طلبہ سے خدمت لینا


سوال

تعلیمی اوقات کے بعد مہتمم صاحب مکتب و مدرسہ کے بالغ یا نابالغ طلبہ سے ذاتی یا مکتب و مدرسہ کا کوئی کام لے سکتے ہیں یا نہیں اگر لے سکتے ہیں تو اس کی کوئی شرائط بھی ہیں یا نہیں راہنمائی فرمائیں ۔؟

جواب

وہ مصالح اور امورجو طلبا کی ضروریات سے متعلق ہوں جیسے مکتب ، کمرہ ، بیت الخلا وغیرہ کی صفائی ایسے امور میں طلبا سےان کی استطاعت کے مطابق خدمت لینا جائز ہے البتہ جو امور اساتذہ کرام کے ذاتی اغراض سے وابستہ ہو ں ان میں اگر طلبا بے ریش اور امرد نہ ہو ں اورطیب نفس سے خدمت سر انجام دیں تو یہ جائز ہے لیکن ذاتی اغراض کے واسطے طلبا پر جبر اور زبردستی نہیں کی جاسکتی کیونکہ یہ  طلبا کی ذمہ داریوں میں شامل نہیں  ۔

عن ابن عباس أن النبي دخل الخلاء فوضعت له وضوءا قال من وضع هذا فأخبر فقال اللهم فقهه في الدين . ( صحيح البخاري باب وضع الماء عندالخلاءج1ص41)

و عن ام سليم وهي ام انس رضي الله عنه انها قالت يا رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم انس خادمك ادع الله له قال اللهم اكثر ماله وولده (سنن الترمذی : باب مناقب لانس بن مالک : ج 5 ص 578 )


فتویٰ نمبر : 4491/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور