بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/10/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

مدرسے کے طلبہ کو وظیفہ دینا


سوال

مکتب یا مدرسے کے مہتمم صاحب ادارے میں زیر تعلیم نادار طلبہ کو (رہائشی ہوں یا مقامی ،کتب پڑھنے والے ہوں یا حفظ و ناظرہ یا قاعدہ کے طلبہ ہوں ، بالغ ہوں یا نابالغ )ہر ماہ کے بعد زکوٰۃ، صدقات نافلہ یا واجبہ یا ادارے کے فنڈ یا چندے کی رقم سے وظیفہ دے سکتے ہیں یا نہیں راہنمائی فرمائیں ؟

جواب

مدارس میں عوام جو چندہ دیتے ہیں اگر اس کے لیے خاص مصرف کی تعیین کریں تو اسی مصرف میں خر چ کرنا ضروری ہے لیکن اگر چندہ دہندگان کسی خاص مصرف کی تعیین کیے بغیر چندہ دے دیں ۔ تو اس کوعرف کے مطابق مدرسہ کے مصارف و مصالح میں خرچ کیا جاسکتاہے ۔

صورت مسئولہ میں مکتب یا مدرسے کے مہتمم صاحب زیر تعلیم تمام طلبا کو (خواہ رہائشی ہوں ،یا مقامی ،کتب پڑھنے والے ہو ں یا حفظ و ناظرہ پڑھنے والے ہوں ، مال دار ہوں یا غریب ) صدقات نافلہ اور چندے کی وہ رقم جس کے لیے کوئی مصرف متعین نہ ہو اس سے عرف کے مطابق وظیفہ دے سکتا  ہے جب کہ صدقات واجبہ اور زکوٰۃ کی رقم سے غریب و فقیر طلبا کو و ظیفہ دینا جائز ہے لیکن مال دار یعنی صاحب نصاب اور سید طلبا کو صدقات واجبہ اور زکوٰۃ کی رقم دینا جائز نہیں ۔

 التصدق على الفقير العالم افضل من التصدق على الجاهل۔ (الفتاوى الهندية كتاب الزكوة ، باب في المصارف ج1ص187)

فلا يجوز صرفها للغني لعموم قوله النبي ﷺ"لا تحل صدقة لغني" خرج النفل منها لان الصدقة على الغني هبة (البحر الرائق ، كتاب الزكوة ،باب المصرف ج2ص427)

ولا تدفع الى بني هاشم لقوله عليه الصلوة والسلام :يا بني هاشم ان الله تعالى حرم عليكم غسالة الناس ، و اوساخهم (الھدایۃ کتاب الزکوۃ :باب من یجوز دفع الزکوۃ الیہ و من لا یجوز ج1ص223)


فتویٰ نمبر : 4490/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور