بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/11/2026 |
میراث اوروصیت سے متعلق چندمسائل
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائےکرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ (1)مورث (مرحوم )نے اپنی زندگی میں بیٹو ں کو ،جو کہ تین ہیں ،کچھ رقم دی تھی بعد میں ان کے بیٹوں نے اس رقم کو اپنے بہنوں یعنی مرحوم کی بیٹیوں کے حصہ میں شمار کیا ،شرعا کیا ایسا کرنادرست ہے؟ (2)ورثا نے مال غیر منقولہ اشیا ء (جائیداد)کی قیمتیں لگا کر بہنوں کو ان کا حصہ دے دیا ، واضح رہے کہ بھائیوں نے(جو کہ ورثا ہیں) بہنوں سے پوچھے بغیر یہ قیمت لگائی اس کی وجہ یہ تھی کہ بہنوں نے اس وقت کوئی مطالبہ نہیں کیا تھا بعد میں رقم حوالہ کی تو وہ اس پر راضی تھی ، کیا یہ درست ہے ؟ (3)بھائیوں نے غیر منقولہ اشیا ء کی قیمتیں لگائی لیکن بہنوں کو دینے میں تاخیر کی ،مثلا سَن 2003 ء میں قیمتیں لگائی لیکن ادائیگی 2012ء میں کی تو اب پوچھنا یہ ہےکہ کس سَن کی قیمتیں اداکرنی ہوگی ؟ (4)مورِث کی بیوی کا حصہ جو کہ باقی ورثا کے ساتھ چلا آرہا ہے اور مورث کی بیوی ان کے ساتھ رہ رہی ہے تو اب مورِث کی بیوی کی حصےکی ادائیگی کی کیا صورت ہوگی ؟ (5)باپ کی موجودگی میں جب بیٹا فوت ہوجائے تو کیا دادا کی میراث میں پوتو ں کا حصہ ہے یا نہیں ؟ اگر دادا نے وصیت کی ہو کہ میرے پوتوں کو حصہ دیا جائے تو کیا ایسا کرنا جائز ہے یا نہیں؟
جواب
(1)كوئی شخص اگر اپنی زندگی میں اولاد کو کوئی چیز بلاعوض ملکیتاً دیتاہے تویہ ہبہ کہلاتاہے۔اس ہبہ کی وجہ سے حصہ میراث پر کوئی فرق نہیں پڑتا،اورنہ ہی دوسرے ورثا کےلیے اس ہبہ کو میراث میں شمار کرنا جائز ہے۔لہذاصورتِ مسئولہ کے مطابق مورِث (مرحوم) نے اپنی زندگی میں بیٹیوں کوجو کچھ رقم دی ہے ،شرعاًیہ ہبہ ہے۔لہذا بعد میں بیٹوں کے لیے جائز نہیں کہ اس کو بیٹیوں کی میراث کے حصوںمیں شمار کریں۔
(2)شریعتِ مطہرہ کی رو سے تمام عقود کی طر ح عقد بیع میں بھی طر فین(بائع اور مشتری )کی رضا مندی لا زمی اور ضروری ہے اگر با ئع اور مشتری دونوں را ضی ہوں تو بیع درست ہوگی اگر ان میں سے کوئی ایک بھی راضی نہ ہوتوبیع صحیح نہ ہوگی۔ صورت مسؤلہ کے مطا بق بھائیوں کابہنوں کے حصۂمیراث کی قیمت لگانا دراصل اس کو خریدنا ہے۔اگر قیمت لگاتے وقت یا وصول کرتے وقت بہنوں نے اس پر رضامندی کا اظہار کیا ہوتویہ معاملہ جائز ہے۔
(3)اگربھائی ،بہنوں کو سَن 2012ءمیں ان کے حصوں کی زمین کا معاوضہ دینا چاہتے ہوں جب کہ بہنوں کی زمین کی قیمت 2003ءمیں لگائی گئی ہواوران کے ساتھ عقدِ بیع بھی ہواہوتو بھائیوں کو اب 2012ء میں وہی سَن 2003ء کی قیمت اداکرنی ہوگیاگرچہ اب قیمت میں زیادتی آئی ہو۔اور اگرسَن2003ءمیں کوئی عقدِبیع نہ ہواتھاتوپھرجس وقت بہنوں کےساتھ عقدہوا اورجس قیمت پرہواوہی قیمت اداکرنےکے پابند ہوں گے۔
(4)مورِث کی بیوی کا حصہ باقی ورثا کے حصوں سے جدا کرکے اس کو حوالہ کیا جائے۔
(5)عصبات میں جو میت کے زیادہ قریب ہوں،میراث میں ان کو حصہ ملےگا، اور دوروالا عصبی رشتہ دار محروم ہوگا۔صورتِ مسئولہ میں باپ کی زندگی میں جب بیٹا فوت ہوجائےتو اگر دیگر بیٹے زندہ موجود ہوں تو دادا کے میراث میں پوتوں کو حصہ نہیں ملےگا۔اور پوتے چونکہ بیٹوں کی موجودگی میں میراث سے محروم ہیں اس لیےداداکا ان کےلیے وصیت کرنا درست ہے۔
وَإِذَا حَضَرَ الْقِسْمَةَ أُولُو الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينُ فَارْزُقُوهُمْ مِنْهُ.(النساء،الاية:7)
وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ.(النساء،الاية:12)
أَمَّا أَصْلُ الْحُكْمِ فَهُوَ ثُبُوتُ الْمِلْكِ لِلْمَوْهُوبِ له فى الْمَوْهُوبِ من غَيْرِ عِوَضٍ لِأَنَّ الْهِبَةَ تَمْلِيكُ الْعَيْنِ من غَيْرِ عِوَضٍ فَكَانَ حُكْمُهَا مِلْكَ الْمَوْهُوبِ من غَيْرِ عِوَضٍ.(بدائع الصنائع،كتاب الهبة،فصل وأماحكم الهبة،ج6ص127)
إذا توفي الواهب ليس لورثته استرادالموهوب.(شرح المجلة،لسليم رستم باز،باب فى الهبة، المادة:876 ص482)
وزيد عليه فى الشرع فقيل:هومبادلة المال بالمال بالتراضي بطريق الاكتساب.(العنايةشرح الهداية،كتاب البيوع،ج3ص457)
ويصح بيع حصة شائعة معلومة كالنصف والثلث والعشر من العقار.....فلو قال لرجل بعتك نصيبي من هذاالدار بكذا وقبل المشترى ولم يكن عالما بنصيبه لايجوز هذاالبيع،وإن علم جاز.(شرح المجلة،الكتاب الأول فى البيوع،الباب الثاني فى كيفية البيع،الفصل الأول في شروط المبيع وأوصافه،المادة:214ص103)
الأقرب فالأقرب يرجحون بقرب الدرجة،أعني أولهم بالميراث جزء الميت،أي:البنون ثم بنوهم وإن سفلوا.(السراجي فى الميراث،ص13)