بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/08/2026 |
مرداور عورت کی نماز کا فرق
سوال
مرد اور عورت کی نماز میں کیا فرق ہے ؟اور اہل سنت والجماعۃ جو دلائل دیتے ہیں وہ حوالے کے ساتھ بتائیں۔
جواب
مرد اور عورت کی جسمانی ساخت کے اعتبار سے جو فرق پایا جاتا ہے شرعی احکام اور مسائل میں جگہ جگہ ان کا لحاظ رکھا کیا گیاہےچنانچہ اسلام کی سب سے مہتم بالشان عبادت نماز میں بھی مرد اور عورت کے درمیان بعض احکام میں فرق موجود ہے جس کی بنیادی وجہ عورت کے پردے کا لحاظ رکھنا ہے چنانچہ مندرجہ ذیل امور میں مرد اور عورت کا حکم الگ الگ ہے:
(1)عورتوں کو تکبیر تحریمہ کیلئے ہاتھ چادر یا دو پٹہ کے اندر ہی اٹھانے چاہئیں خواہ سردی وغیرہ کا عذر ہو یا نہ ہو جبکہ مردوں کیلئے تکبیر تحریمہ کے وقت ہاتھ چادر سے باہر نکالنا بہتر ہے ۔
(2)تکبیر کرتے وقت مرد کانوں کی لو تک جبکہ عورتیں کندھوں تک ہاتھ اٹھائیں ۔
(3)تکبیر تحریمہ کے بعد عورتیں سینہ پرہاتھ رکھیں ،جبکہ مرد ناف کے نیچےہاتھ باندھے ۔
(4)عورتوں کو داہنی ہتھیلی بائیں ہتھیلی کی پشت پر رکھ دینا چاہئے،جبکہ مردوں کے لیےحلقہ بنانا اوربائیں کلائی کو پکڑنا چاہئے ۔
(5)عورت رکوع میں زیادہ نہ جھکےبلکہ اس قدر جھکے کہ ہاتھ گھٹنوں تک پہنچ جائیں ۔جبکہ مرد رکوع میں اتنا جھکے کہ سر ،پیٹ اور سرین برابر ہو جائیں۔
(6)مرد گھٹنے پر انگلیاں کھلی رکھے اور ہاتھ پر زور دیتے ہوئے مضبوطی سے گھٹنوں کو پکڑے جبکہ عورت انگلیاں ملاکر ہاتھ گھٹنوں پر رکھ دے اور ہاتھ پر زور نہ دے اور پاؤں جھکے ہوئے رکھے ۔
(7) رکوع میں مرد اپنے بازوؤں کو پہلو سے بالکل الگ رکھے اور کھل کر رکوع کرے جبکہ عورت اپنے بازوؤں کو پہلو سے خوب ملاکر جتنا ہو سکے سکڑ کر رکوع کرے۔
(8)سجدہ میں بھی عورت خوب سمٹ کر اور دب کراپنی کہنیاں پہلوؤں سے ملاکر زمین سے ملی ہوئی رکھے جبکہ مرد اپنی کہنیاں زمین اور پہلوؤں سے جدا کر کے سجدہ کرے۔
(9)عورت کوسجدہ میں پیٹ رانوں سے ملانا چاہئے جبکہ مردوں کے لیے الگ رکھنا چاہیے۔
(10) عورت التحیات میں بیٹھتے وقت مردوں کے بر خلاف دونوں پیر داہنی طرف نکال کر بائیں سرین پر بیٹھی گی ۔
(11) جب کو ئی امر نماز میں پیش آے مثلا کوئی آگے سے گزر نا چاہے تو تنبیہ کیلئے مرد تسبیح پڑھے اور عورت تسبیح نہ پڑھے بلکہ ہاتھ پر ہاتھ مارے۔
یاد رہے کہ مرد وعورت کی کیفیت نماز میں مذکورہ فرق فرض وواجب نہیں ،لہذا اگر کوئی عورت مردوں کی طرح یا کوئی مرد عورتوں کی طرح نماز کے ارکان ادا کرے تو ایسی صورت میں نماز ادا ہو جائی گی ۔البتہ سنت یہی ہے کہ مرد وعورت نماز پڑھنے میں مندرجہ بالا فروق کی رعایت رکھیں، اس لیے کہ روایات ،صحابہ و تابعین رضی اللہ عنہم کے آثار اور فقہی عبارات سے مرد و عورت کی کیفیت نماز میں یہی فرق معلوم ہوتا ہے ۔علاوہ ازیں مرد اورعورت کی نماز میں کچھ فرق ایسے بھی ہیں جن کی رعایت ضروری ہے وہ درجہ ذیل ہیں۔
(1)مرد کے لیے ناف سے لے کر گھٹنوں سمیت اور عورت کے لیے چہرے ،ہتھیلیوں اور پاؤں کے بغیر تمام بدن کو چھپانا نماز کی صحت کے لیے شرط ہے ،لہذا اگر کوئی عورت بلاعذر ننگے سر نماز پڑھے یا چہرے ،ہتھیلیوں اور پاؤں کے علاوہ بدن کا کوئی عضو چوتھائی حصہ کے بقدر کھلا رہے تو نماز ادا نہ ہوگی لیکن اگر کسی مرد کا مذکورہ اعضاء ستر کے علاوہ بدن کا کوئی حصہ دوران نماز ظاہر ہو تو نماز ادا ہو جائے گی۔
(2)مردوں کے لیے اسبال ازار (شلوار کو ٹخںوں سے نیچے رکھنا)مکروہ تحریمی ہے اور عورتوں کے لیے ضروری ہے تاکہ قدمیں کے اوپر کاحصہ چھپا رہے ۔
قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ما لي رأيتكم أكثرتم التصفيق، من رابه شيء في صلاته، فليسبح فإنه إذا سبح التفت إليه، وإنما التصفيق للنساء»(صحيح البخاري،باب التصفيق للنساء،ج1/ص160)
عن عائشة قالت : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم لاتقبل صلاة الحائض إلا بخمار ۔قال أبو عيسى حديث عائشة حديث حسن والعمل عليه عند أهل العلم أن المرأة إذا أدركت فصلت وشيء من شعرها مكشوف لا تجوز صلاتها۔(جامع الترمذي ،ابواب الصلاة ،باب ما جاء : لا تقبل صلاة حائض إلا بخمار ج1/ص86)
عن وائل بن حجر قال : جئت النبي صلى الله عليه و سلم۔۔۔ فقال لي رسول الله صلى الله عليه و سلم : يا وائل بن حجر إذا صليت فاجعل يديك حذاء أذنيك والمرأة تجعل يديها حذاء ثدييها ۔(المعجم الكبيرللطبراني،ج9/ص144،رقم الحدیث 17497)
عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِى حَبِيبٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- مَرَّ عَلَى امْرَأَتَيْنِ تُصَلِّيَانِ فَقَالَ :« إِذَا سَجَدْتُمَا فَضُمَّا بَعْضَ اللَّحْمِ إِلَى الأَرْضِ ، فَإِنَّ الْمَرْأَةَ لَيْسَتْ فِى ذَلِكَ كَالرَّجُلِ ».(المراسيل لابن ابي داؤد،باب ما يستحب للمراة،ص28)
عَنْ أَبِى سَعِيدٍ الْخُدْرِىِّ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- عَنْ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أَنَّهُ قَالَ :« خَيْرُ صُفُوفِ الرِّجَالِ الأُوَلُ ، وَخَيْرُ صُفُوفِ النِّسَاءِ الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ ». وَكَانَ يَأْمُرُ الرِّجَالَ أَنْ يَتَجَافُوا فِى سُجُودِهِمْ ، وَيَأْمُرُ النِّسَاءَ يَنْخَفِضْنَ فِى سُجُودِهِنَّ ، وَكَانَ يَأْمُرُ الرِّجَالَ أَنْ يَفْرِشُوا الْيُسْرَى وَيَنْصِبُوا الْيُمْنَى فِى التَّشَهُّدِ ، وَيَأْمُرُ النِّسَاءَ أَنْ يَتَرَبَّعْنَ۔(السنن الكبرى للبيهقي،باب ما يستحب للمراة،ْ۔۔۔ج3/ص74)
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- :« إِذَا جَلَسْتِ الْمَرْأَةُ فِى الصَّلاَةِ وَضَعَتْ فَخِذَهَا عَلَى فَخِذِهَا الأُخْرَى ، وَإِذَا سَجَدْتْ أَلْصَقَتْ بَطْنَهَا فِى فَخِذَيْهَا كَأَسْتَرِ مَا يَكُونُ لَهَا ، وَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَنْظُرُ إِلَيْهَا وَيَقُولُ : يَا مَلاَئِكَتِى أُشْهِدُكُمْ أَنِّى قَدْ غَفَرْتُ لَهَا ».(ایضا)
عن ابن عباس أنه سئل عن صلاة المرأة، فقال: «تجتمع وتحتفر»۔
عن خالد بن اللجلاج، قال: «كن النساء يؤمرن أن يتربعن إذا جلسن في الصلاة، ولا يجلسن جلوس الرجال على أوراكهن، يتقى ذلك على المرأة مخافة أن يكون منها الشيء»
عن مجاهد أنه كان يكره أن يضع الرجل بطنه على فخذيه إذا سجد كما تضع المرأة "۔
عن إبراهيم، قال: «إذا سجدت المرأة فلتلزق بطنها بفخذيها، ولا ترفع عجيزتها، ولا تجافي كما يجافي الرجل»(مصنف ابن ابي شيبة،باب المراة كيف تكون في سجودهاج2/ص504)
والمرأة ترفع يديها حذاء منكبيها هو الصحيح لأنه أستر لها۔(الهداية،كتاب الصلاة،فصل في الاوقات اللتي تكره فيها الصلاةج1/ص100)
قوله ( ويسن وضع المرأة يديها الخ ) المرأة تخالف الرجل في مسائل منها هذه ومنها أنها لا تخرج كفيها من كميها عند التكبير وترفع يديها حذاء منكبيها ولا تفرج أصابعها في الركوع وتنحني في الركوع قليلا بحيث تبلغ حد الركوع فلا تزيد على ذلك لأنه أستر لها وتلزم مرفقيها بجنبيها فيه وتلزق بطنها بفخذيها في السجود وتجلس متوركة في كل قعود بأن تجلس على أليتها اليسرى وتخرج كلتا رجليها من الجانب الأيمن وتضع فخذيها على بعضهما وتجعل الساق الأيمن على الساق الأيسر كما في مجمع الأنهر ولا تؤم الرجال وتكره جماعتهن ويقف الإمام وسطهن ولا تجهر في موضع الجهر ولا يستحب في حقها الأسفار بالفجر والتتبع ينفي الحصر ۔(حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح ،كتاب الصلاة،فصل في بيان سننها ص259)
وستر عورته وهي للرجل ما تحت سرته إلى ما تحت ركبته وللحرةجميع بدنهاخلا الوجه والكفين والقدمين۔(تنوير الابصار،كتاب الصلوة،باب شروط الصلوة،ج2/ص77)