بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

"مجھ سے کسی قسم کا کوئی تعلق نہ رکھو" الفاظ سے طلاق کا حکم


سوال

سوال : اگر شوہر اپنی بیوی سے کہے "مجھ سے کسی قسم کا کوئی تعلق نہ رکھو۔اگر پیسوں کی ضرورت ہو تو بتا دیا کرو" اور دل میں طلاق کی نیت نہ ہو ۔صرف اصلاح مقصود ہو تو کیا طلاق واقع ہو جائے گی۔ 

جواب

کنائی الفاظ کے ساتھ طلاق  کے وقوع کے لیے نیت کا ہونا ضروری ہے بغیر نیت کے طلاق واقع نہیں ہوتی ۔

صورت مسئولہ میں حسب سوال اگر بیوی سے "مجھ سے کسی قسم کا کوئی تعلق نہ  رکھو "کے الفاظ کہنے سے اس کو طلاق کا ارادہ نہ ہو تو طلاق واقع نہ ہوگی ۔

وَلَو قال لها لَا نِكَاحَ بَيْنِي وَبَيْنَك أو قال لم يَبْقَ بَيْنِي وَبَيْنَك نِكَاحٌ يَقَعُ الطَّلَاقُ إذَا نَوَى(الفتاوی الھندیۃ،کتاب الطلاق  ،ج1 ص375)

وفی شرح الطحطاوی لا نکاح بینی وبینک ۔۔۔وان قال لم ارد بہ الطلاق او لم تحضر النیۃ لایکون طلاقا۔(فتاوی التاتارخانیۃ ج4ص460)


فتویٰ نمبر : 6174/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور