بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/08/2026 |
حاکم یا اس کے نائب کے حکم سے گاؤں میں جمعہ پڑھنا
سوال
ہماراعلاقہ"گوی اکاری"ضلع تور غر ہے جس میں دو رخہ بازار ہے جس میں 38 دوکانیں ،دو ہوٹل ،سرکاری ہسپتال،سکول ،تھانہ وغیرہ موجود ہے جس میں زندگی کی تمام ضروری اشیاء میسر ہے یہ بازار دو گاؤں کی زمینوں پر مشتمل ہے ایک گاؤں"دار بنی"جس کی آبادی بازار سے 260 فٹ فاصلہ پر واقع ہے لیکن بازار کی زمین بھی اسی گاؤں کی ملک ہے اس گاؤں کی آبادی 160 گھر ہے جو تقریبا 1400 نفوس پر مشتمل ہیں دوسرا گاؤں "لید"جس کی آبادی بازار سے متصل ہے اور آبادی بازار سے 444 فٹ فاصلہ پر واقع ہےاس گاؤں میں گھروں کی تعداد 100 ہے جو جو تقریبا 1200 نفوس پر مشتمل ہیں تیسرا گاؤں جس کا نام خد نگ ہے اس کی آبادی بازار سے 450 فٹ فاصلہ پر واقع ہے جس میں گھروں کی تعداد 85 ہے 950 نفوس پر مشتمل ہیں اس کے علاوہ لوگوں کی آمد ورفت بھی اس بازار کو ہوتی ہے اور بازار میں بھی آبادی ہے اب یہ کل آبادی ملاکر ڈھائی ،تین ہزار بنتی ہیں ۔ سرکاری افسران اسسینٹ کمیشنر وغیرہ کی جبری حکم پر وہاں کے امام نے جمعہ کی نماز شروع کی ہے لیکن کسی دار الافتاء سے باقاعدہ اجازت نہیں ملی تو شرعی طور پر کیا حکم ہے ؟جمعہ شروع کرنا جائز ہے یا نہیں ؟رہنمائی فرمائیں ۔
جواب
واضح رہے کہ جمعہ کے وجوب کی شرائط میں سے ایک شرط شہر یا قریہ کبیرہ(بڑا گاؤں)ہونا ہے ۔لہذا چھو ٹے گاؤں میں نماز جمعہ پڑھنا درست نہیں ۔تاہم اگر حاکم وقت یا اس کا نائب کسی گاؤں میں جمعہ پڑھنے کا حکم دے تو شرعا وہاں پر جمعہ پڑھنا جائز ہو گا ۔
صورت مسؤلہ میں چونکہ ہر گاؤں کی مستقل آبادی دو،ڈھائی ہزار سے کم ہے لہذا مطلوبہ تعداد نہ ہونے کی بناء پر ان میں جمعہ پڑهنا درست نہیں ۔لیکن اگر واقعی کمشنر نے مذکورہ علاقے یا بازار میں جمعہ پڑھنے کا حکم دیا ہو تب اس میں جمعہ پڑھنادرست ہے اس لیے کہ فقہاء کرام کی عبارات کی روشنی میں حاکم کے نائب کا قول بھی حاکم کی طرح ہے ۔
لا تصح الجمعة إلا في مصر جامع أو في مصلى المصر ولا تجوز في القرى لقوله عليه الصلاة والسلام لا جمعة ولا تشريق ولا فطر ولا أضحى إلا في مصر جامع والمصر الجامع كل موضع له أمير وقاض ينفذ الأحكام ويقيم الحدود۔(الهداية،كتاب الصلاة ،باب صلاة الجمعة،ج1/ص177)
إذا بنى مسجد في الرستاق بأمر الإمام فهو أمر بالجمعة اتفاقا على ما قال السرخسي اه فافهم والرستاق القرى كما في القاموس وظاهر ما مر عن القهستاني أن مجرد أمر السلطان أو القاضي ببناء المسجد وأدائها فيه حكم رافع للخلاف بلا دعوى وحادثة ۔وأفتى ابن نجيم بأن تزويج القاضي الصغيرة حكم رافع للخلاف ليس لغيره نقضه۔۔۔ولا خفاء في أن من فوض إليه أمر العامة في مصر له إقامتها وإن لم يفوضها السلطان إليه صريحا۔(رد المحتار،كتاب الصلاة،باب الجمعة،مطلب في صحة الجمعة بمسجد ۔۔۔۔ج3/ص8،7)