بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/08/2026 |
بیوی کوطلاق کی دھمکی دینا
سوال
مفتی صاحب! اس مسئلے کے بارے میں شریعت کیاحکم دیتی ہے کہ میری زوجہ ہرمہینے خفاہوکر اپنے والد کےگھر بیٹھ جایا کرتی تھی۔اپریل2019ء کو میں نے اپنےسسر کو فون کیا کہ میں اپنی زوجہ کے پیچھے آرہاہوں تومیرے سسر نے انکار کردیا۔میں نے اسے کہا کہ میں اس ہفتے آپ کے گھر کچھ بزرگوں کے ساتھ آؤں گا،اگرمیری زوجہ واپس میرےساتھ واپس گھر نہ آئی تومیں آپ کی بیٹی کوطلاق دےدوں گا۔اورطلاق دینے کے بعدپھر مجھ سے فارغ ہے۔اور میں نےاپنی ساس کے نمبر پر اسے کچھ میسجز بھیجے جن میں میں نے اسے یہ دھمکی دی کہ آپ کے والد سے بات ہوگئی ہے میرے کچھ رشتہ دار اورکزن آپ کے گھر آئیں گےاگرتم گھر نہ گئی تومیں تجھے فارغ کردوں گا،لیکن میں اگلے اتوار کونہیں گیااورپھر چار مہینے بعد میری ایک بیٹی پیدا ہوگئی ۔بیٹی ہونے کے بعد اگست 2019ء کو میں اپنی بیوی کو واپس گھر لے آیااور میرے ساتھ تین ہفتے رہی۔ برائے مہربانی اس بیان اورمنسلکہ مسیج کی فوٹوکافی کی روسے شریعت کے مطابق رہنمائی فرمائیں کہ میری بیوی کوطلاق ہوئی ہے یانہیں؟
جواب
واضح رہے کہ طلاق ماضی یاحال پر دلالت کرنے والے الفاظ کے ساتھ واقع ہوتی ہے۔جن الفاظ میں مستقبل میں طلاق دینے کی دھمکی دی گئی ہویامستقبل میں طلاق دینے کے عزم کااظہارہو ان سے طلاق واقع نہیں ہوتی ۔ سوال میں مذکورہ صورتحال اور اس کے ساتھ منسلکہ پیغامات کے عکس کے مطابق سائل نے مستقبل میں طلاق دینے کی دھمکی ہے،اور بیوی کے ساتھ طلاق کاوعدہ کیاہے ۔اگر اس کے بعد سائل نے طلاق نہ دی ہو توفقط اس وعدہ طلاق کی وجہ سے اس کی بیوی کو طلاق واقع نہیں ہوئی ہے بلکہ حسب سابق اس کے نکاح میں ہے۔تاہم اس کے علاوہ اگر کچھ اور الفاظ ادا کیے ہوں یالکھ کر بھیجے ہوں تو ان کی تفصیل معلوم ہونے پر ہی جواب دیاجاسکتاہے۔
"وَلَوْ قال أَرَدْت طَلَاقَك لَا يَقَعُ" )البحرالرائق باب الطلاق الصریح،ج3ص270)
"المضارع لایقع بھاالطلاق إلا إذاغلب في الحال كماصرح به ابن الهمام"۔ (تنقيح الحامدية،كتاب الطلاق،ج1ص38)