بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 02/11/2026 |
زکوۃ کی ادائیگی میں یوم الوجوب معتبر ہے یا یوم الاداء
سوال
جواب
شریعت مطہرہ کی رو سے وجوب زکوۃ کے لئے نصاب پر حولان حول )یعنی سال کا گزرنا) شرط ہے لہذا جب حولان حول ہوجائے تو زکوۃ واجب ہوجاتی ہے پھر اگر صاحب نصاب شخص زکوۃ اسی مال کے جنس سے ہی ادا کرنا چاہے یعنی سونے اور چاندی کی زکوۃ سونے اور چاندی میں سے ہی دے تو چالیسواں حصہ دے گا لیکن اگر جنس سے زکوۃ ادا نہ کرے بلکہ قیمت ادا کرنا چاہے تو اس دن کی قیمت کا اعتبار کیا جائے گا جس دن زکوۃ ادا کر ے۔
( وجاز دفع القيمةفي زكاة وعشر وخراج وفطرة ونذر وكفارة غير الإعتاق ) وتعتبر القيمة يوم الوجوب وقالا يوم الأداءوفي السوائم يوم الأداء إجماعا وهو الأصح۔ (الدر المختار ، باب زكوة الغنم ، 286/2)
لأن الواجب الأصلي عندهما هو ربع عشر العين وإنما له ولاية النقل إلى القيمة يوم الأداء فيعتبر قيمتها يوم الأداء۔ (بدائع الصنائع ، فصل و اما صفة الواجب فى اموال التجارة ، 22/2)