بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 02/11/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

کہانت کا حکم


سوال

ہمارے ہاں ایک عورت ہے جو لوگوں کے دم وغیرہ کرتی ہے اب ہمیں یہ معلوم ہوا کہ وہ عورت لوگوں سے کہتی ہے کہ اس عدد کو اس میں ضرب دو یا جمع کرو یا یہ عدد اس سے منفی کرو اور بعد میں کہتی ہے کہ تمھارے ساتھ یہ ہونے والا ہے ،کبھی لوگوں کو ایک کتاب پر آنکھ بند کرکے ہاتھ پھیرنے کو کہتی ہےجب ہندسہ پر ہاتھ آجائے پھر اس کا اپنا مطلب بیان کرتی ہے ، بعض عورتوں کو کہتی ہے کہ مجھے پتا چلا ہے کہ تمھارے خاوند کا دوسرے کے ساتھ چکر ہے وغیرہ وغیرہ ۔اب ہمارے چند سوالات ہیں براہ کرم دلیل کے ساتھ جواب دے ۔ (1)اسلام میں اس عورت کا کیا حکم ہے؟ (2) کیا یہ کہانت میں داخل ہے یا نہیں ؟ (3) جو لوگ منع کرنے کے بعد بھی یہاں آتے ہیں ان کا کیا حکم ہے؟

جواب

شریعت مطہرہ کی رُو سے نجومیوں  کی  باتوں پر اعتماد کرنا  جائزنہیں    رسول اللہ ﷺ کی احادیث   میں اس  سے  ممانعت آئی ہے آپ ﷺ کا فرمان ہے کہ جو شخص کاہن یا عراف کے پاس آئےاور اس کی  بتائے ہوئی باتو ں کو سچ جانے تو وہ اس سے بری ہے جو محمدﷺ پر نازل ہوئی  یعنی قرآن ، سنت اور شریعت ۔اور صفیہ رضی اللہ عنھا کی روایت میں ہے کہ جو شخص کاہن یا کسی نجومی کے پاس جائے اور اس سے کچھ پوچھے (غیب کی باتیں )تو اس کے چالیس دنوں   کی نمازیں  قبول نہیں  ہوتیں۔

(1)چنانچہ صورت مسئولہ میں  اس  عورت کا اعداد کے ضرب وغیرہ سے غیب کا حال معلوم کرنا  اور  مستقبل  کی خبریں  دینا  غلط عقیدہ ہےاور شریعت سے متصادم ہے اور کفر کا سخت اندیشہ ہے ۔

(2)چونکہ کہانت  میں  غیب کا حال معلوم کیا جاتا ہے اور زمانہ مستقبل کی خبریں دی جاتی ہیں اور  صورت مسؤلہ میں بھی مستقبل کے بارے میں  بتایا جاتا ہےاور غیب کی خبریں  بتائی جاتی ہیں  اس لئے یہ بھی ایک  قسم کی کہانت ہے  جس کی ممانعت  حدیث میں آئی ہے ۔

(3)ایسے لوگو ں کے بارے میں حدیث میں سخت ڈانٹ آئی  ہےجوکاہنوں کے پاس آتے ہیں اور  اور ان کی خبروں پر یقین کرتے ہیں ایسے لوگوں کے بارے میں فرمایا ہے کہ ان کی  چالیس دنوں تک نماز قبول نہیں کی جاتی  ،اس لئے ایسے لوگوں کو اللہ تعالی سے ڈرانا چاہیے  ۔

عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « مَنْ أَتَى كَاهِنًا ». قَالَ مُوسَى فِى حَدِيثِهِ « فَصَدَّقَهُ بِمَا يَقُولُ ». ثُمَّ اتَّفَقَا « أَوْ أَتَى امْرَأَةً ». قَالَ مُسَدَّدٌ « امْرَأَتَهُ حَائِضًا أَوْ أَتَى امْرَأَةً ». قَالَ مُسَدَّدٌ « امْرَأَتَهُ فِى دُبُرِهَا فَقَدْ بَرِئَ مِمَّا أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَى مُحَمَّدٍ ».(سنن  ابی داؤد کتاب الکہانت  ج2ص189)

الخامس عن صفية بنت أبي عبيد عن بعض أزواج النبي {صلى الله عليه وسلم} عن النبي {صلى الله عليه وسلم} قال من أتى عرافاً فسأله عن شيء لم تقبل له صلاة ٌ أربعين ليلة(الصحیح لمسلم ج2ص233)

 والكاهن كما في مختصر النهاية للسيوطي  من يتعاطى الخبر عن الكائنات في المستقبل ويدعي معرفة الأسرار  والعراف المنجم  وقال الخطابي هو الذي يتعاطى معرفة مكان المسروق والضالة ونحوهما اه  والحاصل أن الكاهن من يدعي معرفة الغيب بأسباب وهي مختلفة فلذا انقسم إلى أنواع متعددة كالعراف والرمال والمنجم وهو الذي يخبر عن المستقبل بطلوع النجم وغروبه والذي يضرب الحصى والذي يدعي أن له صاحبا من الجن يخبره عما سيكون والكل مذموم شرعا محكوم عليهم وعلى مصدقهم بالكفر  وفي البزازية يكفر بادعاء علم الغيب وبإتيان الكاهن وتصديقه  وفي التتارخانية يكفر بقوله أنا أعلم المسروقات أو أنا أخبر عن إخبار الجن إياي اه )ردالمحتار علی الدرالمختار ج6ص385مطلب فی الکاھن والعراف )

 


فتویٰ نمبر : 4483/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور