بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

بیوہ کا حق مہر


سوال

میری بہن (بشری) کی شادی 4فروری 2018 کو احمد نواز ولد رب نواز کے ساتھ ہوئی ، پچھلے سال دسمبر میں احمد وفات ہوگئے ، نکاح کرتے وقت مہر 5تولہ سونا اور ایک کمرہ بمع کچن اور باتھ روم کے مہر کے خانے میں لکھا گیا تھا ، وفات ہوتے وقت اس کے والدین زندہ تھے ۔اب پوچھنا یہ ہے کہ ہم یہ حق مہر اس کے سسر سے مابقی ترکہ میں لے سکتے ہیں ؟لڑکے نے ترکہ میں جائیداد ، گھر وغیرہ نہیں چھوڑا البتہ اس کی دولاکھ رقم بینک میں موجودتھی جو کہ بینک کی جانب سے ہر وارث پر تقسیم کر دی گئی،اس طرح وہ کمرہ جس میں زوجین رہا کرتے تھے والدین کے ساتھ گھر میں شریک تھا موجود ہے ۔

جواب

شرعی نقطہ نظر سے متوفی جو مال وجائیداد چھوڑجائے  اس کے ساتھ   چار حقوق متعلق ہوتے ہیں ، سب سے پہلے ترکہ سے تجھیز وتکفین اور دفن کا انتظام کرنا ضروری ہے ، اس کے بعد جو مال بچ جائے اس سے  سب سے پہلے وہ دین اور قرض جو میت کے ذمہ لازم تھا وہ ادا کیا  جائے گا ،اس میں بیوی کا حق مہر بھی داخل ہے اگر وہ زندگی میں ادا نہ کیا ہو ۔ اور اگر متوفی نے کوئی وصیت کی ہو تو قرض کی ادائیگی کے بعد بچ جانے والے مال کے ایک تہائی حصہ میں وصیت   نافذ کی جائےگی ، اب اس کے بعد جو مال بچ جائے تو میت کے ورثا میں ضابطہ میراث کے  تحت تقسیم کیا جائے گا۔

صورت مسؤلہ میں اگر بیوہ (بشری) نے اپنا مہر مورث (احمد ) سے اس کی زندگی میں وصول  نہیں کیا  تھا اور نہ ہی معاف کیاتھاتویہ اس  کے ذمہ دین ہے اور دین کا ادا کرنا تقسیم میراث پر مقدم ہے  اس لیے ضروری ہے کہ پہلے  مرحوم کے تمام متروکہ مال وجائیداد سےمہر ادا کیا جائے اور اگر پھر بھی پورا  نہ ہو تو یہ اس کے ذمہ قرض رہے گا کسی اور رشتہ دار (باپ ، بھائی وغیرہ) سےاس کا مطالبہ نہیں کیا جاسکتا ۔

تتعلق بترکۃ المیت حقوق اربعۃ مرتبۃ ، الاول یبدء بتکفینہ وتجھیزہ من غیر تبذیر ولا تقتیر ثم تقضی دیونہ من جمیع ما بقی من مالہ ثم تنفذ وصایا ہ من ثلث ما بقی بعد الدین ثم یقسم الباقی بین ورثتہ۔(السراجی فی المیراث  ص5)


فتویٰ نمبر : 6164/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور