بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/10/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

مدرسہ کی رقم سے قرض دینا


سوال

مدرسہ کی رقم مہتمم صاحب کسی کو قرض پر دے سکتا ہے یا نہیں ؟زید کہتا ہے کہ نہیں دے سکتا ،اس لئے کہ یہ پیسے مہتمم صاحب کے پاس امانت ہےاور امانت والی رقم سے قرض دینا درست نہیں ۔والدلیل علی ذالک:(اذا اقرض المستودع دراھم الامانۃ بلا اذن الی آخر وسلمھا ولم یجز صاحبھا یضمن المستودع تلک الدراھم۔۔۔ لایجوز لاحد ان یتصرف فی ملک الغیر بلا اذنہ او وکالۃمنہ اوولایۃ علیہ،وان فعل کان ضامنا/شرح المجلۃ لسلیم رستم بازالمادۃ:96،793)۔جبکہ بکر کا موقف ہے کہ اگر مدرسہ کی رقم ضروریات سے زائد ہو اور قرض دینے سے اس کی زیادہ حفاظت ہو اور واپس حصول ہونے پر اعتماد اور یقین ہو تو اس صورت میں مہتمم کیلئے مدرسہ کی رقم بطور قرض دینا درست ہے۔والدلیل علی ذالک: أن القيم ليس له إقراض مال المسجد،قال في جامع الفصولين ليس للمتولي إيداع مال الوقف والمسجد إلا ممن في عياله ولا إقراضه فلو أقرضه ضمن وكذا المستقرض وذكر أن القيم لو أقرض مال المسجد ليأخذه عند الحاجة وهو أحرز من إمساكه فلا بأس به وفي العدة يسع المتولي إقراض ما فضل من غلة الوقف لو أحرز ۔(البحر الرائق،كتاب الوقف،5/401)ان میں سے کس کی بات درست ہے؟

جواب

فقہی نقطہ نظر سے امانت والی رقم بطور قرض دینے کی دو وجہیں ہو سکتی ہیں :(1) رقم دینے سے مقصود قرض دار کی ضرورت وحاجت  پوری کرنا ہو اور ان رقوم کی حفاظت بغیر قرض دینے کے ممکن ہو تو ایسی صورت میں امانت والے پیسوں سے قرض دینا جائز نہ ہوگا،الا یہ کہ دینے والوں کی طرف سے اس کی اجازت ملے۔(2)رقم دینے سے مقصود قرض دینا نہ ہو بلکہ امانت  والی رقم کی حفاظت ہو  تو اس صورت میں اگر مودَع(جس کے پاس ودیعت( امانت ) رکھی گئی ہو)بامر مجبوری اور حفاظت کے پیش نظر یہ رقوم کسی کو بطور قرض دے دے تو شرعا اس کی گنجائش ہے ۔

          انہی اغراض کی بناء پر فقہاء کرام ؒ کی عبارات میں تطبیق ممکن ہے لہذا جہاں حفاظت کیلئے قرض دینا ناگزیر نہ ہو وہاںمدرسہ کے مہتمم کیلئے جائز نہیں کہ مدرسہ کی رقوم بطور قرض کسی کو دے کیونکہ مدرسہ کی رقم اس کے پاس امانت ہے لیکن اگر کہیں پر ان رقوم کی حفاظت بغیر قرض دینے کے ممکن نہ ہومثلابینک اکاؤنٹ میں رقم رکھنا (کیونکہ یہ بھی فقہی تکییف کے اعتبار سےقرض ہی ہے)۔ایسی حالت میں مہتمم کیلئے بطورقرض یہ رقم دینے کی گنجائش ہے کیونکہ یہاں پر بنیادی مقصد حفاظت ہے نہ کہ قرض ،اور امانت کی حفاظت مودع اور وکیل کی ذمہ داری ہے۔  

(فإذا تم ولزم لايملك ولا يعار ولا يرهن) قوله ( لا يملك ) أي لا يكون مملوكا لصاحبه ولا يملك أي لا يقبل التمليك لغيره بالبيع ونحوه لاستحالة تمليك الخارج عن ملكه ولا يعار ولا يرهن لاقتضائهما الملك۔(الدر المختار مع رد المحتار،كتاب الوقف،مظلب فرق ابو يوسف بین قولہ"موقوفۃ"539/6)

أن القيم ليس له إقراض مال المسجد ، قال في جامع الفصولين ليس للمتولي إيداع مال الوقف والمسجد إلا ممن في عياله ولا إقراضه فلو أقرضه ضمن وكذا المستقرض وذكر أن القيم لو أقرض مال المسجد ليأخذه عند الحاجة وهو أحرز من إمساكه فلا بأس به وفي العدة يسع المتولي إقراض ما فضل من غلة الوقف لو أحرز ۔(البحر الرائق،كتاب الوقف،401/5)


فتویٰ نمبر : 4483/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور