بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 02/11/2026 |
سجدہ کی حالت میں صرف ماتھے پر اکتفا کرنا
سوال
جواب
واضح رہے کہ سجدہ نماز کے ارکان میں سےایک اہم رکن ہے اس رکن کی تکمیل کے لیے ضروری ہے کہ ماتھا زمین پر رکھا جائے اگر ماتھا زمین پر نہیں لگایا اور صرف ناک پراکتفا کیا تو نماز نہیں ہوتی اور اس کا اعادہ ضروری ہے ۔تاہم سجدہ کے وقت ماتھے کے ساتھ ساتھ ناک زمین پر رکھنے سے متعلق فقہائے کرام کی عبارات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ واجب نہیں بلکہ مسنون ہے اور سنت کے ترک سے نماز کراہت تنزیہی کے ساتھ ادا ہو جاتی ہے لہذا اس اصول کے مطابق سجدہ میں ناک نہ رکھنا مکروہ تنزیہی ہے نہ کہ مکروہ تحریمی ۔علامہ شامیؒ نے منحۃ الخالق میں اسی کو ترجیح دی ہے ۔مولانا تھانوی ؒ نے بھی بہشتی زیور میں اسی کو نقل کیا ہے منحۃالخلق کی عبارت درج ذیل ہے :
قال فی النحر لو حملت الکراھۃ علی التنزيه ومن نفاها على التحريم لا رتفع التنافي ۔۔۔ولكن قال الشيخ اسماعيل :في غرر الاذكار ان الاقتصار على الجبهة يجوز بلا كراهة۔۔۔وكذالك في مجموع المسائل وانه به يفتى ،۔۔۔لكن سياتي حمل الكراهةعلى طلب الكف طلبا غير جازم (منحةالخالق555/1)
لو حملت الكراهةفي راي من اثبتها على التنزيهيةومن نفاها على التحريمية لا رتفع التنافي و عبارته في السراج المستحب ان يضعهما.(منحةالخالق555/1)
واختلفوا في السجود على الأنف هل هو فرض مثل غيرها فقالت طائفة إذا سجد على جبهته دون أنفه أجزأه روي ذلك عن ابن عمر وعطاء وطاوس والحسن وابن سيرين والقاسم وسالم والشعبي والزهري والشافعي في أظهر قوليه ومالك وأبي يوسف وأبي ثور والمستحب أن يسجد على أنفه مع الجبهة وقالت طائفة يجزيه أن يسجد على أنفه دون جبهته وهو قول أبي حنيفة(عمدةالقاري90/6)