بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/08/2026 |
ختم قرآن پر ملنے والی رقم سے متعلق ایک فتوے پراستفسار
سوال
جواب
کسی شخص کا دوسرے شخص کو اپنی جگہ کسی جائز اور متعین تصرف میں قائم مقام بنانا وکالت کہلاتاہے،پھر عقد وکالت میں وکیل مؤکل کاتابع ہوتاہے یعنی وکیل اتنے ہی تصرف کااختیار رکھتاہے جتنا مؤکل نے اسے دیا ہو اس سے وہ تجاوز نہیں کرسکتا۔ صورت مسؤلہ میں جب رقم عطیہ کرنے والے شخص نےمہتمم سے یہ کہہ دیا کہ اس رقم سے طلبا کے لیے بکرا خریدو تو اس نے مہتمم کو اس کام کے لیے اپنا وکیل بنایا لہٰذا جس کام کے لیے اسے وکیل بنادیا گیا ہے مہتمم صاحب اسی کاپابند ہوگا،اس کاخلاف نہیں کرسکتا۔ جہاں تک ختم قرآن پر اجرت لینے کاتعلق ہے سو واضح رہے کہ فقہاے کرام نے قرأت قرآن پر رقم لينے كو جو ناجائزلكهاہے وہ بطور اجرت کے لکھا ہے نہ کہ بطورھدیہ کے،لہٰذا اگر کہیں پر اس رقم کو باقاعدہ اجرت کے طور پر وصول کیاجاتاہو توبلاشبہ ناجائز ہوگا ۔لیکن جہاں پر اس کو محض اکرام اور ھدیہ کے طور پر دیاجاتاہو نہ کہ اجرت کے طورپر تووہاں اس کو قبول کرنے میں کوئی حرج نہیں،ہمارے معاشرے میں مشاہدہ یہ ہے کہ لوگ اسے ضیافت کے واسطے قرآن خوانوں کو دیاکرتے ہیں نہ کہ اجرت کے طور پر، لہٰذا اس پر اجرت کاحکم لاگو نہیں کیاجاسکتا۔
منسلکہ فتوٰی میں بھی جواسے ناجائز لکھاگیا ہے وہ بطوراجرت کے لکھا گیا ہے جس میں کسی کو اختلاف نہیں، لیکن جہاں تک اس میں مہتمم کے لیے بکرے کی اس رقم کو کہیں اور خرچ کرنے کوجائز کہاگیاہے سو یہ اس واسطےمحل نظر ہے کہ اس پر متولی وقف کے تصرفات سے استدلال کیاگیا ہے حالانکہ متولی وقف اور وکیل کے احکامات ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں۔
"الوكيل إنما يستفيد التصرف من الموكل وقد أمره بالدفع إلى فلان فلا يملك الدفع إلى غيره كما لو أوصى لزيد بكذا ليس للوصي الدفع إلى غيره(ردالمحتار،مطلب فی زکوٰۃ ثمن المبیع وفاء،ج3ص189)
"الحاصل أن ما شاع في زماننا من قراءة الأجزاء بالأجرة لا يجوز لأن فيه الأمر بالقراءة وإعطاء الثواب للآمر والقراءة لأجل المال" (ردالمحتار،کتاب الإجارۃ، ج9 ص77)
"(وقال الشعبي لا يشترط المعلم إلا أن يعطى شيئا فليقبله)۔۔۔وقول الشعبي هذا يدل على أن أخذ الأجر بالاشتراط لا يجوز فإن اعطى من غير شرط فإنه يجوز أخذه لأنه إما هبة أو صدقة وليس بأجرة وأصحابنا الحنفية قائلون بهذا" (عمدة القاري،باب مايعطى في الرقية على أحياء العرب بفاتحة الكتاب،ج12 ص97)