بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

اوراق مقدسہ کی ریسائیکلنگ کاحکم


سوال

کیافرماتے ہیں علماےکرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ عموماً ہمارےمعاشرے میں قرآن پاک کے بوسیدہ اور دیگر مقدس اوراق کی بے ادبی بہت زیادہ پائی جاتی ہے اورانہیں باادب طریقے سے صحیح ٹھکانے لگانے کاکوئی منظم اور مربوط ا نتظام نہیں ہے۔ اس لیے چند مخلص اور نیک دل احباب نےاس مسئلہ سے نمٹنے کے لیے ایک سوسائٹی "ادارہ تحفیظ القرآن" کے نام سے بنائی ہے اس سوسائٹی کے تحت ہم فیصل آباد کے شہری علاقے سےناقابل استعمال مکمل قرآن پاک یااس کے اوراق اکھٹے کرکے انہیں دفن کردیتے ہیں ۔اس معاملے میں ہمیں جو مشکل پیش آرہی ہے وہ یہ ہے کہ فیصل آبادکی آبادی کو سامنے رکھتے ہوئے اس طرح کے اوراق بہت زیادہ مقدار میں جمع ہوتے ہیں۔اتنی بڑی مقدار کودفن کرنا یادریابرد کرنا بہت مشکل بلکہ تقریباً ناممکن نظرآرہاہے۔ پھر دریابرد کرنے میں بھی عموماً بے ادبی کاپہلو سامنے آتارہتاہے کہ یہ اوراق چلتے چلتے جب کسی خشک جگہ پہنچتے ہیں توخشک ہوکر ہواسے بکھر جاتے ہیں، جیسا کہ اس طرح کے کئی واقعات میڈیا پر بھی سامنے آچکے ہیں۔اور ان پر کیچڑ لگا ہوا ہونے کی وجہ سے ان کی حالت ناگفتہ بہ ہوتی ہے۔ایسی صورتحال میں کہ جبکہ ان مقدس اوراق کی اتنی بھاری بھر مقدار جمع ہورہی ہے جسے دفن کرنا یادریابرد کرنا بھی بہت مشکل ہے اور یہ عمل بہت سے مسائل کاباعث بھی بن رہاہے توکیا قرآن وسنت اوراقوال فقہا کی روشنی میں اس کی گنجائش ہے کہ انہیں بے ادبی سے بچانے کے لیے کسی محفوظ جگہ کوئی ایساپلانٹ لگادیاجائے جس میں ان اوراق کوراکھ بنادیاجائے۔ واضح رہے کہ اس عمل کامقصود معاذاللہ قرآن پاک کی بےحرمتی یاتوہین ہرگز نہیں ہے بلکہ مقصود صرف اور صرف کلام مقدس کو بےحرمتی سے بچانا ہے ۔ اس لئے اس انتظام میں درجہ ذیل باتوں کاپورا خیال رکھا جائے گا: (1) کسی بھی موقع پر ایسا کام نہ کیاجائے جس سے کلام مقدس کی بے حرمتی ہو۔ (2)صرف اور صرف انہی اوراق کوراکھ بنایاجائے گا جومکمل طور پر ناقابل استفادہ ہواور ناقابل استعمال ہوچکے ہوں گے۔ قرآن حکیم کے جو نسخے قابل استعما ل ہوں گےانہیں ہرگز اس عمل سے نہیں گزاراجائے گا۔ (3)قرآن پاک کے ناقابل استعما ل اوراق کا تعین کرنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔اس کمیٹی کی صریح اجازت اورتصدیقی مہر کے بغیر یہ عمل ہر گز نہ کیاجائے گا۔ براہِ کرم شریعت مقدسہ کی روسے رہنمائی فرمائیں کہ اس طرح کاکوئی انتظام کرنے کی گنجائش ہے یانہیں؟فقط

جواب

واضح رہے کہ قرآنی آیات ،احادیث مبارکہ،اسماء الہی واسماء انبیاے کرام پرمشتمل اوراق اور دیگر دینی کتب ورسائل کاادب واحترام ہرمسلمان کی دینی ذمہ داری ہے،جس طرح ان  کتب ومصاحف کےصحیح اور قابل استعمال ہونے کی صورت میں ان کا ادب واحترام لازم ہےاسی طرح ان  کے پرانے،بوسیدہ اور ناقابل انتفاع ہونے کی صورت میں بھی احترام ضروری ہے۔ایسے اوراق اور مصاحف اگر بوسیدہ ہوجائیں تو فقہاےکرام نے انہیں بے حرمتی سے بچانے کی مختلف صورتیں بتلائی ہیں:

(1)پہلی صورت یہ ہے کہ انہیں کسی کپڑے میں لپیٹ کر کسی ایسی جگہ دفن کردیاجائے جہاں لوگوں کاآناجانا بالکل نہ ہو یا بہت کم ہو۔ مسلمان میت کی طرح قبر کھود کر دفن کردیاجائے،اور بہتر یہ ہے کہ بغلی قبر بنائی جائے۔

(2) دوسری صورت  یہ ہے کہ ان مقدس اوراق کے ساتھ کوئی وزنی چیزباندھ کر کسی دریایاسمندر میں ڈال دیاجائے۔

(3) تیسری صورت  یہ ہے کہ ان اوراق کو پانی سے دھوکر ان کی لکھائی اور نقوش کو مٹادیاجائے اور پھر ان اوراق کو جلادیاجائے۔ آج  کل چونکہ کتابوں کی طباعت پختہ سیاہی کے ساتھ ہوتی ہے اس لیے عموماً پانی کے ذریعے  نہیں مٹایاجاسکتا البتہ کسی کیمیکل کے ذریعے مطبوعہ حروف کو مٹادینا (wash out)  ممکن ہے کہ  حروف ونقوش مٹ کر سیال (liquid)مادہ کی شکل اختیار کرجائیں اور اس طرح کرنےسے جوباقی بچے گا وہ کاغذنہیں رہےگا بلکہ گودےکی شکل میں ہوگا لہذا پھراس کاحکم مقدس اوراق کانہیں رہے گا۔

                صورت مسؤلہ میں اگر پہلی دو صورتوں پر عمل کرنا مشکل ہو توتیسری صورت کو اختیار کیا جاسکتاہے کہ پہلے کیمیکل کے ذریعے ان اوراق مقدسہ سے حروف ونقوش کومٹادیاجائے اس طریقے میں جوسیال مادہ نکلے گااسے کسی صاف جگہ یادریامیں بہادیاجائے،اور جو گودا بچے تو بہتر یہ ہے کہ اسے دوبارہ قرآن مجید کی کاغذسازی یاگتہ سازی کے کام میں استعمال کیاجائے، تاہم اب چونکہ اس کی ماہیت بدل چکی  ہوگی لہٰذا اب اسے راکھ بنانے کی بھی گنجائش ہے۔

                لیکن یاد رہے کہ اس طریقہ کار کو اختیار کرنے میں چند امور کاخیال رکھناضروری ہے،ان امور کی رعایت اگر چہ اس درجے میں نہیں کہ ان کے بغیر یہ عمل مکمل نہیں ہوتا لیکن ممکن ہے کہ ان امور کی رعایت سے معاشرتی طورپر ادب واحترام کے تصور کی رعایت ہوگی اور کارندوں کے ذھن میں عظمت  کاپہلو غالب رہے گا تاکہ کہیں بے ادبی کاارتکاب نہ ہو۔وہ امور درجہ ذیل ہیں:

(1) جس گودام وغیرہ میں اوراق مقدسہ جمع کیے جاتے ہوں وہ پاک وصاف ہو،اور باعزت طریقے سے اس میں مصاحف رکھے جائیں۔

(2)کیمیکل کے ذریعے انمقدس  اوراق سے تحریر مٹانے کاعمل جہاں ہورہاہو وہ جگہ بھی پاک ،صاف اور شفاف ہو۔

(3) اگرچہ مٹانے کایہ عمل کسی مشین /پلانٹ سے ہوتا ہو لیکن اس عمل میں بوسیدہ اوراق اور نسخوں کو  اٹھانے والے،رکھنے والے یاکسی بھی طرح چھونے والے کارکن باوضورہیں۔

(4)خارج ہونے والے سیال مادہ کو کسی صاف  جگہ یادریا وغیرہ میں بہانے کااہتمام کیاجائے۔

(5)جس کیمیکل کے ذریعے اوراق مقدسہ سے حروف کومحوکیاجاتاہو اس کانجس اشیاء سے پاک ہوناضروری ہے کیونکہ نجس اشیاء سے قرآنی آیات کادھونا جائز نہیں۔

(6)اس عمل میں ان مصاحف کےساتھ دوسری ایسی کتب ورسائل کونہ ملایاجائے جوتصاویر یافحش موادپر مشتمل  ہوں۔

(7) پلانٹ کے اندر اوراق مقدسہ کے نقل وحمل میں بھی ادب واحترام کوملحوظ رکھاجائے انہیں گرانے اور پھینکنے سے حددرجہ کااحتراز لازم ہے،چنانچہ ا س حوالے سے ملازمین کی   ٹریننگ کااہتمام اور پھر ان کی کڑی نگرانی ضروری ہے۔

بہتریہ ہے کہ اوراق مقدسہ کی ریسائیکلنگ کے اس عمل میں سائنس دانوں اور ماہرین فن سے   مشورہ لیاجائے تاکہ ان  کے مشورے سے کوئی ایسی بہترسے بہتر صورت تجویز ہو جس میں ممکنہ حد تک بے حرمتی سے بچاجاسکے۔

          "قال الحصكفي:الكتب التي لا ينتفع بها يمحى عنها اسم الله وملائكته ورسله ويحرق الباقي ولا بأس بأن تلقى في ماء جار كما هي أو تدفن وهو أحسن كما في الأنبياء"" وقال ابن عابدين:وفي الذخيرة المصحف إذا صار خلقا وتعذر القراءة منه لا يحرق بالنار إليه أشار محمد وبه نأخذ ولا يكره دفنه وينبغي أن يلف بخرقة طاهرة ويلحد له لأنه لو شق ودفن يحتاج إلى إهالة التراب عليه وفي ذلك نوع تحقير إلا إذا جعل فوقه سقف وإن شاء غسله بالماء أو وضعه في موضع طاهر لا تصل إليه يد محدث ولا غبار ولا قذر تعظيما لكلام الله عز وجل" ۔ (ردالمحتار على الدرالمختار،ج6ص422)

"قال الحصكفي:ولا ترمی براية القلم المستعمل لاحترامه كحشيش المسجد وكناسته لا يلقى في موضع يخل بالتعظيم ولا يجوز لف شيء في كاغد فيه فقه وفي كتب الطب يجوز ولو فيه اسم الله أو الرسول فيجوز محوه ليلف فيه شيء ومحو بعض الكتابة بالريق يجوز وقد ورد النهي في محو اسم الله بالبزاق""وقال ابن عابدين:قوله ( لاحترامه ) أي بسبب ما كتب به من أسماء الله تعالى ونحوها على أن الحروف في ذاتها لها احترام۔۔۔قوله ( فيجوز محوه ) المحو إذهاب الأثر كما في القاموس ۔۔۔قوله (ومحو بعض الكتابة ) ظاهره ولو قرآنا وقيد بالبعض لإخراج اسم الله تعالى"(ردالمحتار على الدرالمختار،مطلب يطلق الدعاء على مايشمل الثناء،ج1ص178)

"وَلَوْ مَحَا لَوْحًا كُتِبَ فيه الْقُرْآنُ وَاسْتَعْمَلَهُ في أَمْرِ الدُّنْيَا يَجُوزُ وقد وَرَدَ النَّهْيُ عن مَحْوِ اسْمِ اللَّهِ تَعَالَى بِالْبُزَاقِ"۔(الهندية،كتاب الكراهية،الباب الخامس في آداب المسجد ، ج5 ص322)

" وفي مسائل الملتقط:ورسائل تستغنى عنهاوفيها اسم الله تعالى يمحى ثم يلقى في الماءالكثير واتخذ منه قراطيس كان أفضل" (التاتارخانية،كتاب الكراهية ، المادة ، 28066 ج18ص69)


فتویٰ نمبر : 4479/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور