بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 30/08/2026 |
مضاربت ختم کرنے کے بعد منافع کا استحقاق
سوال
ہم متعدد لوگوں کے سرمایہ سے مضاربت کرتے ہیں اگر کوئی رب المال کہے کہ میں اپنی مضاربت ختم کرتا ہوں تو ہم اس کا راس المال واپس کرنے کے لیے کچھ وقت لیتے ہیں کیونکہ راس المال مارکیٹ میں گاہک کے پاس ہوتا ہے تو ہم عموماً رب المال سے چھ ماہ کا وقت لیتے ہیں مثلاً اگر رب المال کا راس المال چھ لاکھ روپے ہے تو ہم اس کی واپسی چھ ماہ میں قسط وارکرتے ہیں۔باایں صورت کہ ہر ماہ میں جو ادائیگی کی جاتے ہے اس کے علاوہ( بقایا) میں رب المال کو باقاعدہ نفع دیا جاتا ہے،مضاربت ختم کرنے کا یہ طریقہ کار شرعاً درست ہے ؟اگرنہیں تو متبادل جائز صورت کی راہنمائی فرمائیں؟
جواب
رب المال جب عقد مضاربت ختم کردے تو وہ باقی شرکاء کے ساتھ نفع و نقصان میں شریک ہونے سے برات کا اظہار کردیتا ہے ۔لہذا رب المال کو مضاربت ختم کرنے کے بعد نفع یا نقصان میں شریک کرنا جائز نہیں۔
صورت مسؤلہ میں ذکر کردہ صورت کے مطابق مضاربت کا عقد ختم کرنے کا طریقہ کار درست نہیں کیونکہ جب رب المال نے مضاربت کا عقد ختم کردیا تو وہ اب نفع ونقصان میں شریک نہ رہا اگر چہ راس المال کی ادائیگی ابھی تک نہ ہوئی ہو۔اس کا درست طریقہ کار یہ ہوسکتا ہے کہ بجائے اس کے کہ مضاربت کومکمل ختم کرے وہ ہر ماہ سرمایہ میں سے کچھ کم کرتا رہے اور بقیہ سرمایہ میں مضاربت باقی رکھے تب وہ بقیہ سرمائے کے حساب سے منافع کا مستحق ہو سکتا ہے۔
(لا أعمل معك ) هذا في المعنى فسخ فكان الأولى تأخيره عن قوله ويفسخ أحدهما۔ وفي البحر عن البزازية اشتركا واشتريا أمتعة ثم قال أحدهما لا أعمل معك بالشركة وغاب فباع الحاضر الأمتعة فالحاصل للبائع وعليه قيمة المتاع لأن قوله لا أعمل معك فسخ للشركة معه وأحدهما يملك فسخها۔ (ردالمحتار علی الدرالمختار،ج 4،ص327)
شَرِيكَانِ شَرِكَةَ عِنَانٍ اشْتَرَيَا أَمْتِعَةً ثُمَّ قال أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ لَا أَعْمَلُ مَعَكَ بِالشَّرِكَةِ وَغَابَ فَعَمِلَ الْآخَرُ بِالْأَمْتِعَةِ فما اجْتَمَعَ كان لِلْعَامِلِ وهو ضَامِنٌ لِقِيمَةِ نَصِيبِ شَرِيكِهِ كَذَا في فَتَاوَى قَاضِي خَانْ۔(الفتاوی الھندیہ،ج2،ص327)