بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 02/11/2026 |
گاؤں میں نماز جمعہ
سوال
جواب
جمعہ کے وجوب ادا کے لئے دوسری شرائط کے علاوہ ایک شرطیہ بھی ہے کہ شہر ہو یا شہر کاتابع ہو یا بڑا گاؤں ہو۔موجودہ دور میں جس گاؤں /قصبہ کی آبادی دو ڈھائی ہزار افراد پر مشتمل ہو اور ضروریات زندگی اس میں میسر ہوں تو اس میں نماز جمعہ جائز ہے ، لیکن جہاں کہیں یہ شرائط مفقود ہوں وہاں نماز جمعہ پڑھنا جائز نہیں ،تاہم اس کے باوجود اگر کسی جگہ نماز جمعہ ادا ہوتی ہو اور اس کو منع کرنے سے آپس میں انتشار اور فتنہ برپا ہونے کا اندیشہ ہو تو ایسی صورت میں اس جگہ نماز جمعہ پڑھنے کی گنجائش ہے ۔
لہذا صورت مسئولہ میں اگر اس گاؤں (جگیاں ) میں دو ڈھائی ہزار آبادی موجود ہے اور ضروریات زندگی بھی میسر ہیں تو نماز جمعہ کی ادائیگی درست ہے ، اور محلہ کے دوسری مساجد میں بھی نماز جمعہ کا انعقاد درست ہے ،لیکن اگر یہ شرائط مفقود ہیں لیکن جمعہ کی ادائیگی پھر بھی ہوتی ہے اور منع کرنے سے فتنہ اور فساد کا خطرہ ہو تو بھی گنجائش ہے ۔
وَتُؤَدَّى الْجُمُعَةُ في مِصْرٍ وَاحِدٍ في مَوَاضِعَ كَثِيرَةٍ وهو قَوْلُ أبي حَنِيفَةَ وَمُحَمَّدٍ رَحِمَهُمَا اللَّهُ تَعَالَى وهو الْأَصَحُّ(الفتاوی الھندیہ ج1 ص145)
واستشهد له بما في التجنيس عن الحلواني أن كسالى العوام إذا صلوا الفجر عند طلوع الشمس لا يمنعون لأنهم إذا منعوا تركوها أصلا وأداؤها مع تجويز أهل الحديث لها أولى من تركها أصلا(ردالمحتار علی الدرالمختار ج2ص171)
قلت وھذا وان کان غیر موافق لما علیہ الحنفیۃ ولکن اشد موافقۃ للمصالح الاسلامیۃ الاجتماعیۃ خصوصا فی ھذا القطر وفی ھذا الزمان فان اعداءالاسلام یظفرون بمقاصدھم المشومۃ فی قری لاتقام فیہا الجمعۃ ویخیبون فی مواضع اقامۃ الجمعۃ والتوفیق من اللہ عز وجل وحفاظۃ الاسلام خیر من الاصرار علی ترکھا والمسئلۃ مجتھد فیھا ۔ (کفایت المفتی کتاب الصلوۃ جواب 388)