بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

کمپنی کی جانب سے مقرر کردہ دوکاندار کا کسٹمر سے ٹرانزیکشن پر اضافی پیسے وصول کرنا


سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام دریں مسئلہ کہ کوئی شخص ایزی پیسہ کے ذریعہ اپنے اکاؤنٹ میں رقم جمع کرنا چاہے ، رقم نکلوانا چاہے یا کسی کو رقم بھیجنا چاہے تو ان صورتوں میں ایزی میسہ دوکاندار کے پاس آنا پڑتا ہے ، ایزی پیسہ دوکاندار کمپنی کی ڈیوائیس سے یہ ٹرانزیکشنز کرتا ہے جس پر کمپنی اسے کمیشن دیتی ہے ۔ اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ کمپنی کی جانب سے ملنے والا کمیشن حلال ہے یانہیں؟ چونکہ یہ کمیشن کاروبار میں بند کئے گئے پیسوں کی بنسبت نہایت کم ہے تو دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا ایزی پیسہ شاپ والے کے لئے یہ بات جائز ہے کہ وہ کسٹمر سے ان ٹرانزیکشنز کے عوض اضافی کمیشن بھی وصول کرے؟ نوٹ: ( بعض ٹرانزیکشنز میں کسٹمر سے فیس وصول کی جاتی ہے جبکہ بعض ٹرانزیکشنز فری ہوتی ہیں)۔

جواب

واضح رہے کہ کسی متعین شخص  ،  کمپنی یا ادارہ کی جانب سے کسی کام پر مامور شخص اجیر کہلاتا ہے پھر اگر وہ اجیر صرف مستاجر ہی کے واسطے کام کرنے کے لئے اجارہ پر رکھا گیا ہو  تو اجیر خاص   اور اگر کسی ایک متعین شخص یا کمپنی کے لئے کام کرنے پر مامور نہ ہو بلکہ وہ ہر کسی کے لئے کام کرنے میں آزاد ہو تو  وہ اجیر مشترک کہلائے گا۔

صورت مسئولہ میں ایزی پیسہ دوکاندار اجیر مشترک  ہے اور  اجیر مشترک کام مکمل کرنے کے بعد اجرت کا حقدار ہوتا ہے لہذا  دوكاندار  کےلئے ایزی پیسہ کمپنی کی طرف سے ٹرانزیکشنز پر ملنے والی کمیشن لینا جائز ہے تاہم ایزی پیسہ دوکاندار کا کمپنی کی ڈیوائیس کے ذریعہ ٹرانزیکشنز پر کسٹمر سے اضافی چارجز لینا جائز نہیں کیونکہ  دوکاندارکمپنی کا اجیر ہے اور کمپنی  دوکاندار کو ان ٹرانزیکشنز پر اجرت بصورت کمیشن دیتی ہے لہذا اس ایک عمل پر دوہری اجرت لینا یعنی (کمپنی سے اجرت کے ساتھ کسٹمر سے بھی وصول کرنا) درست نہیں ۔

(فالأول من يعمل لا لواحد ) كالخياط ونحوه ( أو يعمل له عملا غير موقت ) كأن استأجره للخياطة في بيته غير مقيدة بمدة كان أجيرا مشتركا وإن لم يعمل لغيره ( أو موقتا بلا تخصيص )۔۔۔۔۔ ( ولا يستحق المشترك الأجر حتى يعمل۔  (الدر المختار ، كتاب الإجارة ، باب ضمان الأجير ، 9/94)

لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي۔ (البحر الرائق ، فصل في التعزير ، 5/44)


فتویٰ نمبر : 2737/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور