بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/08/2026 |
کمپنی کی جانب سے مقرر کردہ دوکاندار کا کسٹمر سے ٹرانزیکشن پر اضافی پیسے وصول کرنا
سوال
جواب
واضح رہے کہ کسی متعین شخص ، کمپنی یا ادارہ کی جانب سے کسی کام پر مامور شخص اجیر کہلاتا ہے پھر اگر وہ اجیر صرف مستاجر ہی کے واسطے کام کرنے کے لئے اجارہ پر رکھا گیا ہو تو اجیر خاص اور اگر کسی ایک متعین شخص یا کمپنی کے لئے کام کرنے پر مامور نہ ہو بلکہ وہ ہر کسی کے لئے کام کرنے میں آزاد ہو تو وہ اجیر مشترک کہلائے گا۔
صورت مسئولہ میں ایزی پیسہ دوکاندار اجیر مشترک ہے اور اجیر مشترک کام مکمل کرنے کے بعد اجرت کا حقدار ہوتا ہے لہذا دوكاندار کےلئے ایزی پیسہ کمپنی کی طرف سے ٹرانزیکشنز پر ملنے والی کمیشن لینا جائز ہے تاہم ایزی پیسہ دوکاندار کا کمپنی کی ڈیوائیس کے ذریعہ ٹرانزیکشنز پر کسٹمر سے اضافی چارجز لینا جائز نہیں کیونکہ دوکاندارکمپنی کا اجیر ہے اور کمپنی دوکاندار کو ان ٹرانزیکشنز پر اجرت بصورت کمیشن دیتی ہے لہذا اس ایک عمل پر دوہری اجرت لینا یعنی (کمپنی سے اجرت کے ساتھ کسٹمر سے بھی وصول کرنا) درست نہیں ۔
(فالأول من يعمل لا لواحد ) كالخياط ونحوه ( أو يعمل له عملا غير موقت ) كأن استأجره للخياطة في بيته غير مقيدة بمدة كان أجيرا مشتركا وإن لم يعمل لغيره ( أو موقتا بلا تخصيص )۔۔۔۔۔ ( ولا يستحق المشترك الأجر حتى يعمل۔ (الدر المختار ، كتاب الإجارة ، باب ضمان الأجير ، 9/94)
لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي۔ (البحر الرائق ، فصل في التعزير ، 5/44)