بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

والدین سے قبل فوت ہونے والی بیٹی اور ان کی وفات کےوقت زندہ بیٹی کا میراث میں حق


سوال

میری بیوی (شمیم) 2005ء میں وفات ہوئی اس کے والد (عبدالرشید ) اور والدہ (نورین تاجہ) اس وقت زندہ تھے کچھ عرصہ بعد میں نے شمیم کی بہن (روزینہ ) سے شادی کی ، 2010 ء میں ان کےوالد (عبدالرشید ) جبکہ 2015ء میں ان کی والدہ (نورین تاجہ) وفات پاگئی ، اس صورت میں شمیم اور اس کی اولاد کا عبدالرشید اور نورین تاجہ کے مال وجائیداد میں کوئی حصہ بنتا ہے یا نہیں ؟نیز روزینہ جو ابھی حیات ہے اس کا اور اس کی اولاد کا عبدالرشید اور نورین تاجہ کے مال وجائیداد میں کوئی حصہ بنتا ہے کہ نہیں ؟

جواب

شرعی نقطہ  نظرسےکسی کے وارث بننے کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ مورث کی وفات کے وقت  زندہ ہو چنانچہ جو شخص مورث کی زندگی میں فوت ہوجائے وہ شرعا اس کا وارث نہیں ۔

لہذا صورت مسئولہ میں شمیم اپنے والدین سے پہلے فوت ہونے کی وجہ سے ان کی وراثت میں حقدار نہیں ، جبکہ سائل کی دوسری   بیوی  روزینہ اپنے والدین کی وفات کے وقت موجود تھی اس لئے وہ اپنے والد اور والدہ دونوں سے ترکہ میں اصول میراث کے مطابق اپنے حصہ کی مقدار میں وراثت کی حقدار ہے  ،جبکہ شمیم اور روزینہ کی اولاد میں سے کوئی بھی عبد الرشید اور نورین تاجہ کے میراث امیں حقدار نہیں ، کیونکہ وہ ذوی الارحام ہیں اور ذوی الارحام کو ذوی الفروض اور عصبات کے  موجودگی میں  کچھ نہیں ملتا ۔

 قال اللہ تعالی :لِلرِّجَالِ نَصِيبٌ مِمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ وَلِلنِّسَاءِ نَصِيبٌ مِمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ مِمَّا قَلَّ مِنْهُ أَوْ كَثُرَ نَصِيبًا مَفْرُوضًا (النسآء آیت 7)

وشروطه ثلاثة موت مورث حقيقة أو حكما كمفقود أو تقديرا كجنين فيه غرة ووجود وارثه عند موته حيا حقيقة أو تقديرا كالحمل(ردالمحتار علی الدرالمختار  ج6ص756)


فتویٰ نمبر : 4012/297/323

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور