بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/08/2026 |
والدین سے قبل فوت ہونے والی بیٹی اور ان کی وفات کےوقت زندہ بیٹی کا میراث میں حق
سوال
جواب
شرعی نقطہ نظرسےکسی کے وارث بننے کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ مورث کی وفات کے وقت زندہ ہو چنانچہ جو شخص مورث کی زندگی میں فوت ہوجائے وہ شرعا اس کا وارث نہیں ۔
لہذا صورت مسئولہ میں شمیم اپنے والدین سے پہلے فوت ہونے کی وجہ سے ان کی وراثت میں حقدار نہیں ، جبکہ سائل کی دوسری بیوی روزینہ اپنے والدین کی وفات کے وقت موجود تھی اس لئے وہ اپنے والد اور والدہ دونوں سے ترکہ میں اصول میراث کے مطابق اپنے حصہ کی مقدار میں وراثت کی حقدار ہے ،جبکہ شمیم اور روزینہ کی اولاد میں سے کوئی بھی عبد الرشید اور نورین تاجہ کے میراث امیں حقدار نہیں ، کیونکہ وہ ذوی الارحام ہیں اور ذوی الارحام کو ذوی الفروض اور عصبات کے موجودگی میں کچھ نہیں ملتا ۔
قال اللہ تعالی :لِلرِّجَالِ نَصِيبٌ مِمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ وَلِلنِّسَاءِ نَصِيبٌ مِمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ مِمَّا قَلَّ مِنْهُ أَوْ كَثُرَ نَصِيبًا مَفْرُوضًا (النسآء آیت 7)
وشروطه ثلاثة موت مورث حقيقة أو حكما كمفقود أو تقديرا كجنين فيه غرة ووجود وارثه عند موته حيا حقيقة أو تقديرا كالحمل(ردالمحتار علی الدرالمختار ج6ص756)