بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

تین طلاقوں کے بعد دوبارہ نکاح کرنا


سوال

کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں نے اپنی بیوی کو تین دفعہ طلاق دی ہے۔اب ہم پھر چاہتے ہیں کہ ہمارا گھر بنا جائے۔اس کے لیے کیا طریقہ کار اختیار کرینگے؟

جواب

تین طلاق دینے کی صورت میں بیوی شوہر پر حرمت مغلظہ کے ساتھ حرام ہوجاتی ہے۔جس کے بعد دوسرے خاوند سے باقاعدہ نکاح وہمبستری اور پھر اس سے آزاد ہوئے بغیراس عورت کا نکاح پہلے شوہر سے حلال نہیں۔

صورت مسئولہ میں اگر واقعی سائل نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دی ہوں اور اب اس مطلقہ عورت سے دوبارہ ازدواجی تعلق قائم کرنا چاہتا ہو تو یہ اس وقت ممکن ہےجب  یہ عورت اس پہلے شوہر سے عدت گزار کر اپنی مرضی واختیار سے کسی اور شخص سے نکاح کرے اور اس دوسرے شوہر سے ہمبستری بھی کرلے اس کے بعد اگر وہ اسے طلاق دے دے یافوت ہوجائےتو اس دوسرے شوہر سے عدت گزارنے کے بعد پہلے شوہر سے نکاح کرسکتی ہے۔

فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ ۔(البقرۃ: الایۃ 230  )  

عن عائشة قالت جاءت امرأة رفاعة إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقالت  كنت عند رفاعة فطلقني فبت طلاقي فتزوجت عبد الرحمن بن الزبير وان ما معه مثل هدبة الثوب فتبسم رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال أتريدين أن ترجعي إلى رفاعة ؟لا حتى تذوقي عسيلته ويذوق عسيلتك۔(الصحیح لمسلم،کتاب النکاح،ج1ص533)

ان كان الطلاق ثلاثا في الحرة او ثنتين في الامة لم تحل له حتی تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها او يموت عنها۔  (الھدایۃ،باب الرجعۃ، فصل فیما تحل بہ المطلقۃ ج2 ص 409)


فتویٰ نمبر : 6162/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور