بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

مسجد کی دوسری منزل کو مدرسہ بنانا


سوال

مسجد کی دوسری منزل پر درس وتدریس اور مدرسہ کا نظم بناناجائز ہے یا نہیں ؟

جواب

واضح رہے کہ جب زمین یا مکان مسجد کے لئے وقف کیا جائے اور وقف تام بھی ہوجائے تو شرعا اس زمین یا مکان کو دوسرے مصرف میں استعمال کرنا جائز نہیں ۔

  لہذا صورت مسئولہ میں مسجد کے اوپر یا نیچے کسی بھی منزل کو اس طرح مستقل مدرسہ بنانا اور درس وتدریس کے لئےاس طور سے  خاص کرنا  کہ اس میں نماز باجماعت مستقل ترک کی جائے  یہ جائز نہیں ، تاہم اگر درس وتدریس مسجد کے آداب کا لحاظ رکھ کر کیا جائے اور درس وتدریس کے لئے کسی جگہ کو مستقلا خاص نہ کیا جائے  ، بلکہ نماز باجماعت بھی اس میں ادا کی جائے اور درس وتدریس بھی ہوتو یہ جائز ہے۔ 

 أَمَّا لِلتَّذْكِيرِ أو لِلتَّدْرِيسِ فَلَا لِأَنَّهُ ما بنى له وَإِنْ جَازَ فيه ۔۔۔

 وَيَجُوزُ الدَّرْسُ في الْمَسْجِدِ وَإِنْ كان فيه اسْتِعْمَالُ اللُّبُودِ وَالْبَوَارِي الْمُسَبَّلَةِ لِأَجْلِ الْمَسْجِدِ۔(البحرالرئق ج5 ص270)

قَوْلُهُ ( وَالْوَطْءُ فَوْقَهُ وَالْبَوْلُ وَالتَّخَلِّي ) أَيْ وَكُرِهَ الْوَطْءُ فَوْقَ الْمَسْجِدِ وَكَذَا الْبَوْلُ وَالتَّغَوُّطُ لِأَنَّ سَطْحَ الْمَسْجِدِ له حُكْمُ الْمَسْجِدِ حتى يَصِحَّ الِاقْتِدَاءُ منه بِمَنْ تَحْتَهُ ۔(البحرالرائق ج2 ص36)


فتویٰ نمبر : 8701/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور