بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/08/2026 |
شعبان اور رمضان کی تعطیلات میں تنخواہ کا حکم
سوال
جواب
فقہاء کرام کی تصریحات کے مطابق اگر عقد اجارہ میں ابتدائی مدت کی تعیین کی گئی ہو تو اس متعین مدت سے اجرت کا حساب شروع ہوگا اور اگر عقد میںابتدائی مدت کی کوئی تعیین نہ ہوئی ہو تو پھر وقتِ عقد کو ابتدائی مدت شمار کیا جائے گایاپھر عرف کے مطابق وقت اجارہ کے ابتدا کی تعیین کی جائے گی لہذا صورت مسئولہ میں۔۔۔۔۔۔
(1)رجب کے مہینہ میں جن اساتذہ کرام کے ساتھ نئے تدریسی سال کا معاہدہ ہوجائے اور ان اساتذہ کرام نے شعبان اور رمضان کے مہینوں میں کوئی درس نہ دیا ہو بلکہ معمول کے مطابق تعطیلات پر ہوں تو وہ اساتذہ کرام شوال سے تنخواہ کے مستحق ہوں گے کیونکہ مدارس دینیہ میں نئے سال کی ابتداء شوال ہی سے ہوتی ہے لہذاا ن اساتذہ کرام کا گزشتہ سال کے شعبان ورمضان کے مہینوں کی تنخواہ کا مطالبہ کرنا درست نہیں ْ۔
(2)وہ اساتذہ کرام جو دوسرے مدارس سے مستعفی ہو کر یا کسی دوسری جگہ سے آتے ہیں اور ان کے ساتھ بھی نئے تدریسی سال کا معاہدہ ہوتا ہے وہ اساتذہ کرام بھی شوال ہی سے تنخواہ کے مستحق ہوں گے ۔ گزشتہ سال کے شعبان اور رمضان کے مہینوں کی تنخواہ ان کے لئے جائز نہیں ۔
(3)جن مدرسین کے ساتھ درسی سال کا عقد ہو چکا ہو اگر وہ شعبان یا رمضان سے قبل مستعفی ہو جائیں تو وہ ان دو ماہ کی تنخواہ کاحق نہیں رکھتے اور اگر رمضان کے بعد استعفی پیش کریں تو پھر وہ شعبان اور رمضان کی تنخواہوں کے مستحق ہو ں گے ۔
(4)جن مدرسین کے ساتھ درسی سال کا معاہدہ ہو چکا ہو اور اسی مدرسے میں تدریس کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہوں تو ان کی شعبان اور رمضان کی تنخواہ مدرسے کے ضابطے کے مطابق ہوگی اگر تو سال کا معاہدہ کرتے ہوئے یہ بات طے ہوئی ہو کہ شعبان اور رمضان کی تنخواہ نہیں دی جائے گی تو پھر وہ شعبان اور رمضان کے مہینوں کی تنخواہ کے مستحق نہ ہو ں گے اور اگر معاہدہ میں یہ تصریح ہو ئی ہو کہ بشمول شعبان و رمضان سال متصور ہوگا یا پھر کسی قسم کی تصریح نہ ہوئی ہو تو مدارس کے عام عرف کے مطابق وہ اساتذہ کرام شعبان اور رمضان کے مہینوں کی تنخواہوں کے مستحق ہوں گے ۔
يَصِحُّ الْعَقْدُ على مُدَّةٍ مَعْلُومَةٍ أَيَّ مُدَّةٍ كانت قَصُرَتْ الْمُدَّةُ كَالْيَوْمِ وَنَحْوِهِ أو طَالَتْ كَالسِّنِينَ كَذَا في الْمُضْمَرَاتِ وَيُعْتَبَرُ ابْتِدَاءُ الْمُدَّةِ مِمَّا سَمَّى وَإِنْ لم يُسَمِّ شيئا فَهُوَ من الْوَقْتِ الذي اسْتَأْجَرَهَا۔ّ(الفتاوي الهنديه،جلد4،صفحه 415)
وَمِنْهَا الْبَطَالَةُ فِي الْمَدَارِسِ،كَأَيَّامِ الْأَعْيَادِ وَيَوْمِ عَاشُورَاءَ ، وَشَهْرِ رَمَضَانَ فِي دَرْسِ الْفِقْهِ لَمْ أَرَهَا صَرِيحَةً فِي كَلَامِهِمْ .وَالْمَسْأَلَةُ عَلَى وَجْهَيْنِ: فَإِنْ كَانَتْ مَشْرُوطَةً لَمْ يَسْقُطْ مِنْ الْمَعْلُومِ شَيْءٌ ، وَإِلَّا فَيَنْبَغِي أَنْ يَلْحَقَ بِبَطَالَةِ الْقَاضِي ، وَقَدْ اخْتَلَفُوا فِي أَخْذِ الْقَاضِي مَا رُتِّبَ لَهُ مِنْ بَيْتِ الْمَالِ فِي يَوْمِ بَطَالَتِهِ ، فَقَالَ فِي الْمُحِيطِ : إنَّهُ يَأْخُذُ فِي يَوْمِ الْبَطَالَةِ ؛ لِأَنَّهُ يَسْتَرِيحُ لِلْيَوْمِ الثَّانِي.وَقِيلَ : لَا يَأْخُذُ ( انْتَهَى ) .وَفِي الْمُنْيَةِ : الْقَاضِي يَسْتَحِقُّ الْكِفَايَةَ مِنْ بَيْتِ الْمَالِ فِي يَوْمِ الْبَطَالَةِ فِي الْأَصَحِّ ، وَاخْتَارَهُ فِي مَنْظُومَةِ ابْنِ وَهْبَانَ ، وَقَالَ : إنَّهُ الْأَظْهَرُ فَيَنْبَغِي أَنْ يَكُونَ كَذَلِكَ فِي الْمَدَارِسِ ؛ لِأَنَّ يَوْمَ الْبَطَالَةِ لِلِاسْتِرَاحَةِ۔
(الاشباه والنظائرلابن نجيم، المبحث الثاني،القاعدةالسادسةالعادةمحكمة،جلد1،صفحه 96)