بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/08/2026 |
مسجد کا چندہ مدرسہ میں صرف کرنا
سوال
جواب
موما مساجد میں جمعہ کے دن عوام سے جو چندہ جمع کیا جاتا ہے وہ مسجد کے مصالح ہی کے لیے ہوتا ہے لہذا اس کو مسجد کی ضروریات ومصارف میں خرچ کرنا ضروری ہے۔صورت مسئولہ میں جمعہ کے دن عوام مسجد میں جو چندہ دیتے ہیں وہ عموما مسجد کے مصالح ومصارف کے لیے ہوتا ہے اس لیے اس چندہ کو مدرسہ میں صرف کرنا درست نہیں البتہ اگر چندہ دہندگان کی طرف سے اس چندہ کو مدرسہ میں استعمال کرنے کی اجازت ملی ہو تب یہ چندہ مسجد کے ساتھ خاص نہ ہوگا بلکہ مسجد ومدرسہ دونوں میں خرچ کرنے کی گنجائش ہوگی لیکن جب تک ان سے اجازت نہ لی گئی ہو تو چونکہ عرف یہی ہے کہ بلا تعین چندہ صرف مسجد کے مصالح کے لیے جمع کیا جاتا ہے لہذا اس چندہ کو مدرسہ میں استعمال کرنے سے اجتناب ضروری ہے۔
"الوکیل انما یستفید التصرف من الموکل وقد امرہ بالدفع الی غیرہ کما لو اوصی لزید بکذا لیس للوصی الدفع الی غیرہ فتامل" (ردالمحتار علی الدرالمختار کتاب الزکوۃ ج3 ص189)
"واذا اراد ان یصرف شیئا من ذالک الی امام المسجد او الی موذن المسجد فلیس لہ ذالک الا ان کان الواقف شرط فی الوقف"(الفتاوی الھندیۃ الفصل الثانی فی الوقف وتصرف القیم وغیرہ ج2 ص463)