بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

وصيت کی خواہش کا حکم


سوال

میرے والد صاحب کا جون 2020 میں انتقال ہوا ہے ، ان کے ورثاء میں پہلی بیوی سے 3 بیٹیاں اور ایک بیٹا ہےاور پہلی بیوی کا انتقال 35 سال قبل ہو چکا ہے ، پھر والد صاحب نے ایک بیوہ سے شادی کی جس کا پہلے شوہر سے ایک بیٹا بھی تھا جوکہ شادی کے بعد ہمارے گھر اپنی والدہ کے ساتھ آیا ، پھر والد صاحب کی ایک بیٹی دوسری بیوی سے ہوئی لہذا والد صاحب کے ورثاء میں اب 4 بیٹیاں ، ایک بیٹا اور ایک بیوی شامل ہیں ۔ والد صاحب نے اپنی زندگی میں مجھ سے اور باقی ورثاء سے بھی اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ میں اپنی جائیداد میں اپنی دوسری بیوی کے پہلے شوہر والے بیٹے کو بھی حصہ دینا چاہتا ہوں جس پر ورثاء کا کہنا تھا کہ آپ کی اپنی جائیداد ہے آپ جو چاہیں کریں لیکن والد صاحب نے نہ تو زندگی میں اس لڑکے کو کوئی جائیداد دی اور نہ ہی کوئی تحریری وصیت نامہ لکھا البتہ اس لڑکے کے ماموں کا کہنا ہے کہ آپ کے والد نے تحریری وصیت نامہ لکھا تھا لیکن میں نے ان کو کہا کہ آپ نے بہت زیادہ لکھا ہے آپ صرف 3/1 کی وصیت کر سکتے ہیں تب انہوں نے دوبارہ وصیت نامہ لکھا لیکن کسی کو نہیں دیا اپنی جیب میں رکھا ، اب نہ ہی کوئی وصیت نامہ تحریری موجود ہے اور نہ قولی البتہ والد صاحب نے جو خواہش کا اظہار کیا تھا وہ سب کو معلوم ہے اور سب اقرار بھی کرتے ہیں۔ اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ مورث کی زبانی خواہش کے شرعی حیثیت کیا ہے ، کیا خواہش وصیت کا درجہ رکھتی ہے؟

جواب

واضح رہے کہ کسی شخص کا بغیر کسی جبر و اکراہ کے اپنے مال و جائیداد میں ایک تہائی حصہ تک کسی متعین شخص  کے لئے وصیت کرنا جائز ہے ، وصیت کے  منعقد ہونے کے لئے ایجاب و قبول لازم ہے ۔

صورت مسؤلہ   میں     کسی شخص کے لئے اپنے مال و جائیداد میں حصہ دینے کی خواہش کا  محض اظہار  وصیت کے زمرہ میں داخل نہیں کیونکہ محض خواہش میں وصیت کے ارکان(ایجاب و قبول)مفقود ہیں  اور جو وصیت نامہ مرحوم نے تحریر کیا تھااگر واقعتا ً وہ اب موجود نہ ہواور نہ ہی اس پر دو معتبر گواہ موجود ہوں  تو اس کا بھی کوئی اعتبار نہیں البتہ اگر  تما م ورثاء  باہمی رضامندی سے اپنے والد کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے اس کے سوتیلے بیٹے(step son/children)  کو کچھ حصہ دے دیں تو کوئی مضائقہ نہیں۔

وقال أصحابنا الثلاثة رحمهم الله هو الإيجاب والقبول الإيجاب من الموصي والقبول من الموصى له فما لم يوجدا جميعا لا يتم الركن۔ (بدائع الصنائع ، كتاب الوصايا ، 6/425)

ومنها أن لا يكون مجهولا جهالة لا يمكن إزالتها فإن كان لم تجز الوصية له لأن الجهالة التي لا يمكن استدراكها تمنع من تسليم الموصى به إلى الموصى له فلا تفيد الوصية     (بدائع الصنائع ، فصل و اما شرائط الركن ، 7/342)


فتویٰ نمبر : 4008/297/323

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور