بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/08/2026 |
وصيت کی خواہش کا حکم
سوال
جواب
واضح رہے کہ کسی شخص کا بغیر کسی جبر و اکراہ کے اپنے مال و جائیداد میں ایک تہائی حصہ تک کسی متعین شخص کے لئے وصیت کرنا جائز ہے ، وصیت کے منعقد ہونے کے لئے ایجاب و قبول لازم ہے ۔
صورت مسؤلہ میں کسی شخص کے لئے اپنے مال و جائیداد میں حصہ دینے کی خواہش کا محض اظہار وصیت کے زمرہ میں داخل نہیں کیونکہ محض خواہش میں وصیت کے ارکان(ایجاب و قبول)مفقود ہیں اور جو وصیت نامہ مرحوم نے تحریر کیا تھااگر واقعتا ً وہ اب موجود نہ ہواور نہ ہی اس پر دو معتبر گواہ موجود ہوں تو اس کا بھی کوئی اعتبار نہیں البتہ اگر تما م ورثاء باہمی رضامندی سے اپنے والد کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے اس کے سوتیلے بیٹے(step son/children) کو کچھ حصہ دے دیں تو کوئی مضائقہ نہیں۔
وقال أصحابنا الثلاثة رحمهم الله هو الإيجاب والقبول الإيجاب من الموصي والقبول من الموصى له فما لم يوجدا جميعا لا يتم الركن۔ (بدائع الصنائع ، كتاب الوصايا ، 6/425)
ومنها أن لا يكون مجهولا جهالة لا يمكن إزالتها فإن كان لم تجز الوصية له لأن الجهالة التي لا يمكن استدراكها تمنع من تسليم الموصى به إلى الموصى له فلا تفيد الوصية (بدائع الصنائع ، فصل و اما شرائط الركن ، 7/342)