بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

رمضان کے متعدد کفاروں میں تداخل


سوال

زیدنےتین مختلف رمضانوں کاایک ایک روزہ قصداًبھوک وپیاس کی وجہ سےتوڑاہے۔اورایک اوررمضان کاایک روزہ لواطت سےتوڑاہے۔اب زیدستتّرسال کی عمرمیں آکرانتہائی پریشان ہے،اوراپنےکیےہوئےکامداواچاہتاہے،لیکن بدن کےلحاظ سےاتناکمزورہےکہ کفارہ کےروزےنہیں رکھ سکتا،اورنہ بیک وقت مالی جرمانہ دےسکتاہے،توزیدکاذمّہ کس طرح فارغ ہوگا؟

جواب

          اگرکوئی شخص ایک رمضان یامختلف رمضانوں کےمتعدّدروزےقصداًتوڑدے،اورابھی تک کسی ایک روزے کاکفارہ ادانہ کیاہو،توان تمام روزوں کےبدلےمیں ایک ہی کفارہ اداکرناکافی ہوگا،البتّہ کفارہ کےعلاوہ فوت شدّہ روزوں کی قضالانابھی لازم ہے۔

         صورتِ مسؤلہ کےمطابق اگرواقعی زیدنےمختلف رمضانوں کےچارروزےقصداًتوڑدیےہوں،توان تمام روزوں کےبدلےایک ہی کفارہ اداکرناکافی ہے۔کفارہ کی تفصیل یہ ہےکہ ایک غلام آزادکرے،لیکن آج کل غلام آزادکرنےسےکفارہ کی ادائیگی ممکن  نہیں،اس لیےمسلسل دومہینےروزےرکھنےہوں گے،تاہم اگرروزہ رکھنےکی طاقت بالکل ہی نہ رہے،یعنی سردی کےچھوٹےدنوںمیں بھی روزہ رکھنےپرقادرنہ رہےتو ساٹھ مسکینوں کودووقت کاکھاناکھلانےسےیاایک مسکین کوساٹھ دن(ہردن میں دومرتبہ)کھاناکھلانےسےاس کاکفارہ اداہوجائےگا۔اورفوت شدّہ چارروزوں کےبدلےقضامیں چارروزےرکھےگا،اوراگرروزہ رکھنےپرقادرنہ ہوتوان چارفوت شدّہ روزوں میں سےہرایک روزےکافدیہ دینے سےذمہ فارغ ہو جائے گا،فدیہ کی مقدارپونےدوسیرگندم یاساڑھےتین سیرجو،کشمش یاکھجوریااس کی قیمت ہے۔

 

وهذا إذا كان مما يؤكل للغذاء أو للدواء فأما إذا لم يقصد لهما فلا كفارة من جامع عمدا في أحد السبيلين فعليه القضاء والكفارة ولا يشترط الإنزال في المحلين... إذا أكل متعمدا ما يتغذى به أو يتداوى به يلزمه الكفارة وعليه القضاء(الفتاوی الھندیۃ،کتاب الصّوم،الباب الرّابع فی مایفسدومالایفسد،ج1،ص267)

ولأن الصوم لما فاته مست الحاجة إلى الجابر وتعذرجبره بالصوم فيجبربالفدية وتجعل الفدية مثلا للصوم شرعا في هذه الحالة للضرورة كالقيمة في ضمان المتلفات.ومقدارالفدية مقدارصدقة الفطر وهو أن يطعم عن كل يوم مسكينا مقدارمايطعم في صدقة الفطر(بدائع الصّنائع،کتاب الصّوم،فصل فی حکم من أفسدصومہ،ج2،ص616)

ولوتکرّرفطرہ ولم یکفّرللأول تکفیہ واحدۃ، ولوفي رمضانین عندمحمد،وعلیہ الاعتماد...(و)لاتجوزالفدیۃالاعن صوم ھو أصل بنفسہ لابدل عن غیرہ.(حاشیۃ الطّحطاوی علی مراقی الفلاح، کتاب الصّوم، باب مایفسدبہ الصّوم وتجب بہ الکفارۃ، ص546،566)

كفارة الفطر وكفارة الظهار واحدۃ،وهي عتق رقبة مؤمنة أو كافرة فإن لم يقدر على العتق فعليه صيام شهرين متتابعين وإن لم يستطع فعليه إطعام ستين مسكينا كل مسكين صاعا من تمر أو شعير أو نصف صاع من حنطة(الفتاوی الھندیۃ،کتاب الصّوم،فصل فی المتفرّقات،ج1،ص215)


فتویٰ نمبر : 8842/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور