بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

پشاور سے لاہورجاتے ہوئے راستہ میں قصر کرنا


سوال

 پشاور سے لاہور جانے کا ارادہ ہے ،جوکہ مسافت سفر ہے لیکن درمیان   میں نوشہرہ میں بھی ایک رات  ٹھہرنا ہے جوکہ پشاور  سے مسافت  سفر نہیں ، اب پوچھنا یہ ہے کہ  نوشہرہ میں قصر کرے یا اتما م؟

جواب

             جب  مسافت  شرعی کی مقدار میں دور جانے کی نیت سے سفر شروع کیا جائے تو قصر لازم ہے اگر چہ درمیان میں کسی جگہ ٹھہرتے ہو ئے  جاناہو مگر ٹھہرنے کی مدت پندرہ یوم سےکم ہو ،پس پشاور سے لاہور کی نیت سے چلنا سفرشرعی ہے ، لہذااگر پشاور  شہر کے حدود سے نکل کرنوشہرہ میں ایک دوراتیں ٹھہرنے کی نیت ہو ،تو اس سے سفرکےاحکام میں فرق نہیں آئے گا،لہذا نوشہرہ میں بھی قصر ہی کرے گا۔

 

قوله ( حتى يدخل مصره أو ينوي الإقامة نصف شهر في بلد أو قرية ) ۔۔۔۔ وقيدبنصف شهر لأن نية إقامة مادونها لا توجب الإتمام لما روي عن ابن عباس وابن عمر أنهما قدراها بذلك والأثر في المقدرات كالخبر وأقام بمكة مع أصحابه سبعة أيام وهو يقصر۔ (البحرالرائق، باب صلاة المسافر، ج:2، ص:232)

من خرج من عمارة موضع إقامته قاصدامسيرة ثلاثة أيام ولياليهابالسير الوسط مع الاستراحات المعتادةصلى الفرض الرباعي ركعتين(الدرالمختارمع تنويرالابصار، كتاب الصلاة، باب الصلاة المسافر، ج:2، ص:599)


فتویٰ نمبر : 8843/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور