بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

مسجد کے برآمدہ سے اذان دینا


سوال

مسجد کے برآمدہ میں اذان دینا کیسا ہے؟ جائز ہے یا نہیں؟ جب کہ آواز پہنچنے میں  کوئی کمی نہ ہو۔

جواب

           شریعت مطہرہ کے رو سے اذان کےلیے مسجدکےاندر  کوئی خاص جگہ مقرر نہیں ، البتہ بہتر یہ ہے کہ اذان  مسجد سے باہرایسی جگہ سے دی جائے جہاں  سے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو آواز پہنچ سکےکیونکہ اذان کا مقصد  لوگوں کو وقت کے داخل ہو نے کی  اطلاع  دینا ہے،اور یہ مقصد مسجد سے باہر کھلی فضا میں آذان دینے سے بخوبی  حاصل ہوسکتا ہے، تاہم موجودہ دور میں لاوڈسپیکر کے ذریعے اذان دینے کا معمول ہےجس سے آواز دور تک پہنچتی ہے ،اس لیے اگر لاوڈسپیکر کے ذریعے اذان دینی ہو تو خوا ہ مؤذن مسجد کے باہر ہو یا مسجد کے اندر دونوں صورتیں جائز ہے۔

            صورت مسئولہ میں اگر  لاوڈ سپیکر کے ذریعے اذان دینی ہو تو مسجد کے ہال یا برآمدے وغیرہ  میں اذان دینا برابر ہےاور اگر بغیر لاوڈ سپیکر کے اذان دینی ہو تو برآمدے کى بجائے کسی ایسی جگہ سے اذان دینا بہتر ہے جہاں سے آواز زیادہ سے زیادہ لوگوں کو پہنچ سکے۔

 

قال ابن سعد بالسند إلى أم زيد بن ثابت كان بيتي أطول بيت حول المسجد فكان بلال يؤذن فوقه من أول ما أذن إلى أن بنى رسول الله مسجده فكان يؤذن بعد على ظهر المسجد وقد رفع له شيء فوق ظهره۔(ردالمحتار على الدرالمختار، كتاب الصلوة، باب الآذان، ج:2، ص:54)

وفي السراج وينبغي للمؤذن أن يؤذن في موضع يكون أسمع للجيران ويرفع صوته ولا يجهد نفسه لأنه يتضرر۔ (ردالمحتارعلى الدرالمختار، كتاب الصلاة، باب الأذان، 1/387)

ويكره أن يؤذن في المسجد كما في القهستاني عن النظم فإن لم يكن ثمة مكان مرتفع للأذان يؤذن في فناء المسجد كما في الفتح ( حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح، كتاب الصلاة، باب الأذان،ص:197)


فتویٰ نمبر : 8844/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور