بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 02/11/2026 |
شک والی ناپاک صف یا دری پر نماز پڑھنا
سوال
1۔اگر کسی صف یا دری پر ناپاک ہونے کا شک ہو اور دوسرا صف یا دری جوکہ یقینی طور پر پاک ہو،موجود ہو تو اس کے موجودگی میں شک والی صف یا دری پر نماز پڑھنا کیسا ہے؟اگر صف یا دری کے ناپاک ہونے کا یقین ہو،لیکن اس کے اوپر کوئی چادر وغیرہ ڈال دی جائےتو اس چادر پر نماز پڑھنا کیسا ہے؟
جواب
واضح رہے کہ کسی بھی جگہ پر نماز پڑھنے کےلیے اس جگہ کا پاک وصاف ہونا ضروری ہے،چاہے وہ مصلی ہو یا صف ہویا دری یا کوئی اور بچھونا۔
صورت مسئولہ کے مطابق 1۔اگر کسی صف یا دری وغیرہ کے ناپاک ہونےکا شک ہو تو محض شک کی بنا پر اسے ناپاک قرار نہیں دیا جا سکتا،بلکہ اس پر نماز پڑھنا جائزہوگا،البتہ بہتر اور افضل یہی ہے کہ اگر دوسرا یقینی طور پر پاک صف یا دری موجود ہو تو اس پر نماز پڑھی جائے ،تاکہ شکوک وشبہات سے بچا جا سکے۔
2۔اگر کسی ناپاک صف یا دری وغیرہ پر ایسی چادر بچھائی جائے ،جس کے نیچے سے نجاست کا اثر محسوس نہ ہو تا ہو،یعنی اتنی باریک چادر نہ ہو کہ جس کے نیچے نجاست نظر آئے یاتر نجاست ہواور اس کی تری محسوس ہو جائے تو اس پر نماز پڑھنا درست ہے اور اگر نجاست کا اثر محسوس ہوتا ہو تو جائز نہیں۔
اليقين لا يزول بالشك.(الأشباه والنظائر لابن نجيم،القاعدةالخامسة،ص27)
تطهير النجاسة من بدن المصلي وثوبه والمكان الذي يصلي عليه واجب.(الفتاوى الهندية،كتاب الطهارة،الباب الثالث:في شروط الصلاة،الفصل الأول في الطهارة وسترالعورة،ج1،ص114)
وكذا الثوب إذا فرش على النجاسة اليابسة؛ فإن كان رقيقا يشف ما تحته أو توجد منه رائحة النجاسة على تقدير أن لها رائحة لا يجوز الصلاة عليه، وإن كان غليظا بحيث لا يكون كذلك جازت.(رد المحتار على الدرالمختار،كتاب الصلاة،باب يفسد الصلاة وما يكره،مطلب في التشبه بأهل الكتاب،ج2،ص387)