بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 02/09/2026 |
نقدی میں قربانی کے نصاب کےلیےسونا یا چاندی
سوال
کیا نقدی میں قربانی کے نصاب کے لیےچاندی کے بجائے سونا ہے ،یعنی جس کے پاس ساڑهے سات تولہ سونے کی مالیت کے برابر نقدی نہ ہواس پر قربانی واجب نہیں؟
جواب
واضح رہے کہ اگر کسی شخص کے پاس قربانی کے ایام میں نصاب کے بقدر سونا(ساڑهے سات تولے)یا نصاب کے بقدرچاندی(ساڑهے باون تولے)موجود ہویا ان میں سے کسی ایک کے بقدر نقدی،سامان تجارت یا ضرورت سے زائد سامان موجود ہوتو اس پر قربانی واجب ہے۔ موجودہ دور میں ملکی کرنسی کو ثمن عرفی کی حیثیت حاصل ہو چکی ہے، لہذا جس شخص کے پاس اتنی رقم موجود ہو جس سے سونا یا چاندی کا نصاب خریدا جاسکے تو ایسا شخص صاحب نصاب شمار ہوگا اور اس پر زکوٰۃ اور قربانی واجب ہوگی۔
عصر حاضرمیں سونے اور چاندی کی مالیت میں کافی تفاوت آنے کی وجہ سےچاندی سونے کے مقابلہ میں بہت کم قیمت کی ہوتی ہے،لہذا زکوٰۃ کے سلسلہ میں فقہاے کرام نے"انفع للفقراء" کا اعتبار کرتے ہوئے نقدی میں چاندی کے نصاب کو معتبرقرار دیا ہے،اس لیے کہ نقدی میں چاندی کا نصاب پہلے پورا ہوجاتا ہے،چونکہ عبادات میں احتیاط کا پہلو راجح ہے،اس لیے نقدی میں چاندی کے نصاب پر فتوی دیا جاتا ہےاوراسی میں فقراءکا نفع بھی ہے۔لہذا قربانی میں بھی اسی کو اختیار کیا گیا ہے،اور اس میں کوئی حرج بھی نہیں ہے ،کیونکہ چاندی کے نصاب کا مالک اتنی وسعت رکھ سکتا ہےکہ قربانی کے جانورمیں ساتواں حصہ خریدلےیا کوئی چھوٹااور کم قیمت والا جانور خرید لے۔
چنانچہ نقدی میں قربانی کے لیے مفتی بہ قول چاندی کے نصاب کا ہے،لہذااگر کسی کے پاس چاندی کے نصاب کے بقدر نقدی موجود ہو تو اس پر قربانی واجب ہوگی۔
وأما شرائط الوجوب منها اليسار وهو ما يتعلق به وجوب صدقة الفطر دون ما يتعلق به وجوب الزكاة۔۔۔۔۔ والموسر في ظاهر الرواية من له مائتا درهم أو عشرون دينارا أو شيء يبلغ ذلك سوى مسكنه ومتاع مسكنه ومركوبه وخادمه في حاجته التي لا يستغني عنها(الفتاوی الھندیة،كتاب الأضحية،الباب الأول:في تفسيرهاوشرائطها،ج:5،ص:336۔337)
ثم قال يقومها بما هو أنفع للمساكين احتياطا لحق الفقراء قال رضي الله عنه وهذا رواية عن أبي حنيفة رحمه الله وفي الأصل خيره لأن الثمنين في تقدير قيم الأشياء بهما سواء وتفسير الأنفع أن يقومها بما يبلغ نصابا(الهداية،كتاب الزكاة،باب الزكاةالمال،فصل في العروض،ج:2،ص:41)
عن أبي حنيفة - رحمه الله تعالى –((في الأمالي))أنه يقومها بأنفع النقدين للفقراء۔۔۔۔۔وجه قول أبي حنيفة أن المال كان في يد المالك وهو المنتفع به في زمان طويل فلا بد من اعتبار منفعة الفقراء عند التقويم لأداء الزكاة فيقومها بأنفع النقدين. ألا ترى أنه لو كان بتقويمه بأحد النقدين يتم النصاب وبالآخر لا يتم فإنه يقوم بما يتم به النصاب لمنفعة الفقراء(المبسوط للسرخسي،كتاب الزكاة،باب زکوٰۃ المال،ج:2،ص:191)