بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

سرجیکل دستانے پہن کر مسح کرنا


سوال

 سرجیکل دستانے پہن کر مسح کرنے  سےمسح ہوجاتا ہے یا نہیں ؟

جواب

      فقہاءکرام کی عبارات سے معلوم ہوتا ہے کہ سر کا مسح کرتے وقت ہاتھ کا استعمال ضروری نہیں ہے، بلکہ اگر کسی دوسرے ذریعے سے سر کے چوتھائی حصے تک پانی پہنچایاجائے تو بھی مسح کافرض ادا ہوجائے گا۔

     لہذا صورت مسئولہ میں سرجیکل دستانے پہن کر ان کو گیلا کرکے مسح کی نیت سے سر پر پھیر دیا جائے تو اس سے بھی  مسح کی فرضیت ادا ہوجاتی ہے۔

 

"وإن مسح رأسه بخرقة مبلولة أو خشبة أجزأه على أحد الوجهين" (البناية شرح الهداية، كتاب الطهارة، ج:1،ص: 123)

"لو أصاب المطر قدر الفرض سقط، ولا تشترط إصابته باليد؛ لأن الآلة لم تقصد إلا للإيصال إلى المحل فحيث وصل استغنی عن استعمالها" ( فتح القدير ، كتاب الطهارة، ج:1، ص:16)


فتویٰ نمبر : 8834/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور