بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

اسقاط ِحمل کے فیصلے کا مجاز شوہر یا بیوی


سوال

 اسقاطِ حمل كے فیصلے کا مجا زشوہر ہے یا بیوی ،یا دونوں کا اکھٹا فیصلہ کرنا ضروری ہے؟

جواب

           جب حمل ٹھہر جائے تو اس کے بعدبلاعذر  اس کو ساقط کرنے کا میاں بیوی میں سے کسی کو اختیار نہیں ، البتہ چار ماہ گزرنے سے پہلے بوقتِ ضرورت کسی واقعی عذر کے پیشِ نظر اسقاطِ حمل کی گنجائش ہے اور اس صورت میں عورت کے ذمےشوہر سے اجازت لینا ضروری نہیں۔اور اگر  حمل پر چار ماہ گزرجائیں،تو پھر چونکہ بچے کے اعضا مکمل ہوکر اس کے اندر روح ڈال دی جاتی ہے،اس لیے پھراس کو ساقط کرنا قتلِ اولاد کے زمرے میں داخل ہے،چنانچہ اس کے بعد شوہر اور بیوی نہ توباہم مشورے سے ساقط کرسکتے ہیں اور نہ ہی کوئی ایک انفرادی رائے سے اس کے اسقاط کا مجاز ہے  ۔

 

ويكره أن تسقى لإسقاط حملها وجاز لعذر حيث لا يتصور۔(الدرالمختار ، كتاب الحضر والإباحة ، باب الاستبراء وغیرہ ، ج: 9 ص:615)

قال في النهر: بقي هل يباح الإسقاط بعد الحمل؟ نعم يباح ما لم يتخلق منه شيء ولن يكون ذلك إلا بعد مائة وعشرين يوما، وهذا يقتضي أنهم أرادوا بالتخليق نفخ الروح وإلا فهو غلط لأن التخليق يتحقق بالمشاهدة قبل هذه المدة كذا في الفتح، وإطلاقهم يفيد عدم توقف جواز إسقاطها قبل المدة المذكورة على إذن الزوج.(ردالمحتار ، كتاب النكاح ، مطلب في حكم الاسقا ، ج: 4 ص : 335)


فتویٰ نمبر : 4692/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور