بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/08/2026 |
بلا ضرورت ویڈیو بنانا
سوال
نمازعيد كے موقع پر عيد گاه ميں خطبہ ،دعا،لوگوں كے آنے جانے ،گلے ملنے وغيره سے ويڈيو كرنا ،اور پهر اس ويڈيو كا فيس بک پر چڑهانا،زيد ضرورت اور جائز سمجھتا ہے جبکہ عمرو بغیرضرورت کے اور ناجائز سمجھتا ہے،حکم بیان کرکے مشکور فرمائیں۔
جواب
واضح رہےکہ ویڈیو کیمرہ کےذریعے جو ریکارڈنگ ہوتی ہےوہ دراصل مسلسل تصاویرہوتی ہیں جوسکرین پرنمودارہوتی ہیں،اس لیےویڈیوبھی تصویرکےحکم میں داخل ہےاورتصویر کی ممانعت احادیث نبویہ ﷺ سےواضح ہے۔
لہذا صورت مسئولہ میں نمازعیدکےموقع پرعید گاہ میں خطبہ ،دعا،لوگوں کےآنےجانے،گلےملنےوغیرہ سےبلاضرورت ویڈیو کرنا اورپھراس ویڈیوکوفیس بک پرچڑھانا شرعی نقطۂ نظرسےناجائزہے،کیونکہ تصویرپرنٹ میڈیا کا ہویا الیکٹرانک میڈیا کا،دونوں تصویر کےحکم میں ہوکرحدیث نبوی سےبلا ضرورت اس کی رخصت نہیں پائی جاتی،ہاں ضرورت کادائرہ الگ ہے۔عیدکےدن فیس بک پرجیزیں ڈالنا ضرورت کےزمرےمیں شامل نہیں۔
عن عبد الله، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إن أشد الناس عذابا يوم القيامة المصورون»(الصحيح لمسلم، كتاب اللباس، باب تحريم تصويرصورةالحيوان، ج:2، ص:201)