بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/09/2026 |
نقد کم قیمت میں خرید کرانسٹالمنٹ پر زیادہ قیمت میں بیچنا
سوال
میں انسٹالمنٹ کا کاروبار شروع کرنا چاہتا ہوں ،جس کی صورت یہ ہوگی کہ میں رکشہ دو لاکھ ساٹھ ہزار روپے پر نقد ادائیگی پر خریدوں گا،جبکہ اس کو دس ہزار روپے ماہانہ اقساط پر تین لاکھ ساٹھ ہزار روپے پر بیچوں گا،کیا ایسا کرنا میرے لیے جائز ہے؟ کیا یہ آمدنی میرے لیے جائز ہوگی؟
جواب
شريعت مطہرہ کی رو سے جس طرح نقد خرید و فروخت درست ہے اسی طرح ادھار اور قسطوار خریدوفروخت بھی جائز ہے، نیز نقد کے مقابلے میں ادھار یا قسطوار کی قیمت زیادہ رکھنا بھی جائز ہے۔ البتہ ادھار یا قسطوار کی صورت میں ادائیگی کی مدت اور قیمت کی تعیین ضروری ہے۔
صورت مسؤلہ کے مطابق رکشہ کو نقد کم قیمت مثلاً 260،000 روپے میں خرید کر10،000 روپے ماہانہ اقساط پر 360،000 روپے میں بیچنا جائز ہے، اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی حلال ہوگی۔ تاہم یہ ضروری ہے کہ قسط کی ادائیگی میں تاخیر کی وجہ سے کوئی جرمانہ عائد نہ کیا جائے، ورنہ وہ سود کے حکم میں داخل ہوگا۔
قال: و يجوزالبیع بثمن حال و مؤجل إذا كان الأجل معلومالإطلاق قوله تعالیٰ: ﴿وَاَحَلَّ اللّٰہُ الْبَیْعَ﴾۔(الهدایة، كتاب البيوع، ج5،ص8، مكتبة البشرى)
البیع مع تأجیل الثمن وتقسیطہ صحیح…… یلزم أن تکون المدة معلومة في البیع بالتأجیل والتقسیط (شرح مجلة الأحکام العدلیة لسلیم رستم باز اللبناني،ص125، رقم المادة: 245،246)
۔۔۔أن للأجل شبها بالمبیع ألا یری أنه یزاد في الثمن لأجل الأجل (الهدایة، كتاب البيوع، باب المرابحة والتولية، ج5،ص141، مكتبةالبشرى)