بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/08/2026 |
کفار کے تیار کردہ مشروبات خریدنا
سوال
کفارکےتیارکردہ مشروبات(کوکاکولا،پیپسی وغیرہ)خریدناکیسا ہے،بظاہریہ معلوم ہوتاہےکہ درست نہیں،اس لیےکہ یہ کمپنیاں اپنی حکومتوں اورعسکری طاقتوں کوخاص چندہ اورٹیکس دیتی ہیں،اور کفری طاقتیں اس کےنتیجےمیں مسلمانوں پر ظلم ڈھاتی ہیں،تو آپ حضرات اس مسئلےکاشرعی حل بیان کریں؟
جواب
اشیائےضرورت کی تکمیل کے لیےبعض مواقع میں کفّارسے معاملات کی ضرورت پیش آتی ہے،اس ضرورت کی بناپرشریعتِ مطہرہ نےغیرمسلموں کے ساتھ معاملات(تجارت،اجرت،ملازمت اورصنعت وحرفت وغیرہ)کوجائزقراردیاہے،بجزایسی حالت کےکہ ان معاملات کی وجہ سے عام مسلمانوں کو نقصان پہنچنایقینی ہو،چنانچہ حضرات فقہائےکرام رحمہم اللہ نےکفّارکے ہاتھ حالتِ جنگ میں اسلحہ فروخت کرنے کوممنوع قراردیاہے۔
صورتِ مسؤلہ کے مطابق ایک مسلمان کے لیےکفّارکی کمپنیوںمیں تیارکردہ مشروبات خریدکراستعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں،بشرطیکہ:۱-ان مشروبات میں کوئی حرام چیزملی ہوئی نہ ہو۔
۲-یہ یقین ہوکہ ان اشیاکی آمدنی اسلام اور مسلمانوں کے خلاف استعمال نہیں کی جاتی۔
۳-خریدوفروخت سےان کےساتھ دلّی محبّت مقصودنہ ہو،اورنہ ہی اس میں اسلام اورمسلمانوں کونقصان پہنچنےکااندیشہ ہو۔
چنانچہ اگرکسی کمپنی کے بارے میں یقینی طورپریہ معلوم ہوجائےکہ اس کی آمدنی اسلام اور مسلمانوں کے خلاف استعمال کی جاتی ہے،توپھرایک مسلمان کے لیےدین وملّت کی ناموس کاخیال رکھتے ہوئےکفّارکی کمپنیوں میں تیارکردہ مصنوعات سے گریزکرنالازمی ہے۔
لا بأس بأن يكون بين المسلم والذمي معاملة إذا كان مما لا بد منه كذا في السراجية.(الفتاوی الھندیۃ،کتاب الکراھیۃ،الباب الرّابع عشرفی اھل الذّمّۃوالأحکام اللّتی تعودإلیھم،ج5،ص348)
ولا بأس بحمل الثياب والمتاع والطعام ونحو ذلك إليهم لانعدام معنى الإمداد والإعانةوعلى ذلك جرت العادة من تجار الأمصارأنهم يدخلون دارالحرب للتجارة من غيرظهورالردوالإنكارعليهم إلا أن الترك أفضل لأنهم يستخفون بالمسلمين ويدعونهم إلى ما هم عليه فكان الكف والإمساك عن الدخول من باب صيانة النفس عن الهوان والدين عن الزوال فكان أولى.(بدائع الصّنائع،کتاب السّیر،فصل فی بیان مایکرہ حملہ إلی دارالحرب،ج9،ص402)
ولا بأس بطعام اليهود والنصارى كله من الذبائح وغيرها ويستوي الجواب بين أن يكون اليهود والنصارى من أهل الحرب أو من غير أهل الحرب.(الفتاوی الھندیۃ،کتاب الکراھیۃ،الباب الرّابع عشرفی اھل الذّمّۃوالأحکام اللّتی تعودالیھم،ج5،ص401)
فإن الحاكم نص على تسوية الحديد والسلاح وذهب فخر الإسلام في شرح الجامع الصغير إلى أنه لا يكره حيث قال وهذا في السلاح وأما فيما لا يقاتل به إلا بصنعة فلا بأس به كما كرهنا بيع المزامير وأبطلنا بيع الخمر ولم نر ببيع العنب بأسا ولا ببيع الخشب وما أشبه ذلك.(فتح القدیر،کتاب السّیر،باب الموادعۃمن یجوزأمانہ،ج5،ص209)