بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

ہاتھ سے ٹوپی اٹھاکر اسی ہاتھ سے مسح کرنا


سوال

اگر کوئی شخص سر کا مسح کرتے وقت پہلے ٹوپی کو ہاتھوں سے اٹھائے پھر ان ہاتھوں سے مسح کرے  تو کیا شرعا یہ مسح درست ہے یا نہیں ؟

جواب

            واضح رہے کہ تر ہاتھ  کسی عضو پرپھیرنے کو اصطلاح فقہ میں مسح کہتے ہیں۔ فقہ حنفی کی رو سے چوتھائی سر کا مسح کرنا فرض ہے، جبکہ پورےسر کا مسح کرنا سنت ہے۔

           صورت مسئولہ کے مطابق اگر کوئی شخص سر کا مسح کرتےوقت پہلے ٹوپی کو ہاتھوں سے اٹھائے اور پھران ہاتھوں سے مسح کرے تواس میں تفصیل یہ ہے کہ اگر ٹوپی اتارنے کے بعد بھی ہاتھ  تر رہا تو اس سےمسح ٹھیک ہوگا لیکن اگر ٹوپی یا عمامہ اتارنے میں ہاتھوں سے مکمل تری ختم ہو جائےتو  ہاتھ پر تری باقی نہ رہنے کی وجہ سے مسح جائز نہ ہوگا۔ نیز مسنون مسح کی رعایت کرنے کے لیے  ٹوپی اور عمامہ ،مسح کے لیے ہاتھوں کو گیلا کرنے سےپہلے اتارنا  چاہیے تاکہ دونوں ہاتھوں کی مکمل تری کے ساتھ پورے سر کا مسح ہوسکے۔

 

قوله: "امرار اليد على الشيء" أي بلطف قوله: "إصابة اليد الخ" الأولى ما ذكره غيره بقوله وشرعا إصابة بلل لم يستعمل في غيره سواء كان المصاب عضوا أو غيره كشعر وخف وسيف ونحو ذلك وسواء كانت الإصابة باليد أو بغيرها حتى لو أصاب رأسه أو خفه خرقة مبتلة أو مطر أو ثلج قدر المفروض أجزأ سواء مسحه باليد أم لا اهـ(حاشیةالطحطاوي علی مراقي الفلاح شرح نورالإیضاح، ص:48)

"ثلاث أصابع ومدها حتى بلغ القدر المفروض قال في الفتح لم أر فيه إلا الجواز"(منحةالخالق علی ھامش البحر الرائق، کتاب الطھارۃ، سنن الوضوء، ج:۱، ص:35 ، دارالکتب العلمیة)

"(ومسح كل رأسه مرة) مستوعبة، فلو تركه ودوام عليه أثم (قوله: مستوعبة) هذا سنة أيضا، كما جزم به في الفتح، ثم نقل عن القنية أنه إذا داوم على ترك الاستيعاب بلا عذر يأثم،(ردالمحتار علی الدرالمختار، کتاب الطھارۃ، سنن الوضوء، ج:1، ص:244، دارالکتب العلمیة)


فتویٰ نمبر : 8841/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور