بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/11/2026 |
مستحاضہ کی قضا شدہ نمازاور روزوں کا حکم
سوال
ایک عورت جس کے ایام حیض رمضان کےشروع ہونے سے پانچ دن پہلے ختم ہونے والی تھی،لیکن اس نے( family planning)کی گولیاں کھالی جس کی وجہ سے اس کاخون بند نہ ہوئی ،اور رمضان کی28 تاریخ کو اس کی اپنی حیض بھی تھی،اور اس عورت نے رمضان کے پہلے 15دن کے روزسے رکھےلیکن نمازیں نہیں پڑھی ،اس کے بعدکسی سے ذکر کیا ،تو اس نے بتایا کہ تم مستحاضہ کے حکم میں نہیں کیونکہ تم نے خود گولیاں کھالی اور بتکلف خود کو بیمار کر دیا ہے ،لہذااب نہ تو تم روزے رکھواور نہ نماز پڑھو،اس کے بعد عورت نے نہ نماز پڑھی اور نہ روزے رکھی۔
1:اب سوال یہ ہے کہ یہ عورت مستحاضہ تھی یا نہیں ؟
2: عورت نے جو 15 دن روزے رکھی اور جو نمازیں ادا نہیں کی اس کا کیا حکم ہے ؟
3:اورآخری 15 دن کے جو روزے نہیں رکھی اور نمازیں بھی نہیں پڑھی اس کا کیا حکم ہے ؟
4:آخری دو دن اس کی ایام حیض میں تھیں اس کا کیا حکم ہے ؟
5:اگر یہ مستحاضہ تھی اور اس پر روزے رکھنے تھے اور اس نے نہیں رکھے تو کیا اس سے گناہ گار ہو گی یا نہیں ،کیونکہ اس نے تو پوچھ لیا تھا ؟
جواب
واضح رہے کہ حیض و نفاس کے علاوہ جو خون عورت کی شرمگاہ سے آئے ،وہ استحاضہ کہلاتاہے ،اور استحاضہ کا حکم یہ ہے کہ ان دنوں میں مستحاضہ ،نماز ،روزہ،تلاوت و دیگر تما م عبادات کریگی اور ایسی خواتین جنہیں خون استحاضہ آتاہو وہ ہرنماز کے وقت کے لیے وضو کرے گی ،اور اسی وقت کے ختم ہونے تک اس وضو سے نماز، روزہ ،تلاوت طواف وغیرہ کر سکتی ہیں ،بشرطیکہ کوئی اور ناقض وضو پیش نہ آئے، اور اگر مستحاضہ سے اس دوران نمازیں یا روزے قضاہو جائے تو اس کی قضا لازم ہے
3،2،1:۔یہ عورت مستحاضہ تھی ،اور جو روزے رکھےہیں ،وہ درست ہے ،اور جو نمازیں ادا نہیں کی ہے اس کی قضالازم ہے ،اور جو روزے نہیں رکھی اس کی قضا بھی لازم ہے۔
5،4:۔اخری دو دن اگر واقعی حیض کی ہو تو ان دو دن کی نمازوں کا قضا لازم نہیں ،اور روزوں کی قضا لازم ہے ،نماز اور روزوں کو وقت پر نہ پڑھنے پر استغفارکیا جائے اور قضاشدہ نمازیں اور روزوں کی قضا لائے۔
(ودم استحاضة) حكمه (كرعاف دائم) وقتا كاملا (لا يمنع صوما وصلاة) ولو نفلا (وجماعا) لحديث توضئي وصلي وإن قطر الدم على الحصير(ردالمحتار على الدرالمختار ،باب الحيض،ج:1،ص:298)
والمستحاضة ومن به سلس البول والرعاف الدائم والجرح الذي لا يرقأ يتوضئون لوقت كل صلاة فيصلون بذلك الوضوء في الوقت ما شاءوا من الفرائض والنوافل(الھدایۃ،باب الحیض والاستحاضۃ،ج:1،ص:32)