بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 02/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

مہر مؤجل کی وجہ سے وجوب قربانی


سوال

کیا مہر مؤجل کی وجہ سے بیوی پر قربانی واجب ہے یا نہیں؟

جواب

           واضح رہے کہ جب تک شوہر نے مہر ادا نہ کیا ہوتو وہ عورت کا شوہر کے ذمے دین ہو تا ہے اور یہ دین کے اقسام میں سے دین ضعیف ہے۔دین ضعیف وہ دین ہوتا ہےجو کسی مال کے بدلے میں نہ ہو۔اس طرح دین سے قرض خواہ مالدار شمار نہیں ہوتاجب تک وصول نہ کیا ہو۔

           صورت مسؤلہ میں مہر مؤجل عورت کا شوہر کے ذمہ دین ضعیف ہے لہذا اگر اس دین کے علاوہ وہ صاحب نصاب نہ ہو تو اس پر قربانی واجب نہیں۔

 

وأما الدين الضعيف فهو الذي وجب له بدلا عن شيء سواء وجب له بغير صنعه كالميراث،أو بصنعه كالوصية، أووجب بدلاعما ليس بمال كالمهر...ولا زكاة فيه ما لم يقبض كله ويحول عليه الحول بعد القبض.(بدائع الصنائع،كتاب الزكاة،فصل في الشرائط التي ترجع الى المال،ج2:ص392:،دارالكتب العلمية)

والمرأة موسرة بالمعجل لو الزوج مليا وبالمؤجل لا.(ردالمحتارعلى الدرالمختار،كتاب الأضحية،ج:9،ص:453،دارالكتب العلمية)


فتویٰ نمبر : 8861/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور