بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/11/2026 |
ادھار فروخت کرنے والابائع ڈھونڈنے پر کمیشن لینا
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ زید نے بکر سے کہا آپ میرے لیے ایک ایسےشخص کو تیار کرو جو مجھے ایک لاکھ روپے کا سونا ادھار فروخت کرےاس شرط پر کہ میں ماہانہ اس کودس ہزار روپے قسط دوں گا۔اگر آپ نے میرے لیے ایسا شخص تیار کیا تو اس کے عوض میں آپ کو پانچ ہزار روپے کمیشن دوں گا۔اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ اس طرح کمیشن لینا درست ہے یا نہیں؟ تحقیقی جواب دےکر مشکور فرمائیں۔
جواب
خرید وفروخت کے معاملہ میں بائع ومشتری کے مابین واسطہ بننے والے کو اصطلاحِ فقہ میں "سمسار یا دلال"کہا جاتاہے،دلالی کی اجرت میں فقہائے کرام کے نزدیک اختلاف ہے،تاہم احناف حضرات نے معاشرتی ضرورت کو مدِنظر رکھتے ہوئے جواز کافتوی دیا ہے اس لیے دلالی کے عوض اجرت وصول کرنا جائز ہے۔
صورتِ مسئولہ میں بکر"دلال یا سمسار"ہے اورپانچ ہزار روپے اس کی دلالی کی اجرت ہے۔چونکہ دلالی کی اجرت لیناجائزہے،اس لیے بکر کا زید سےپانچ ہزار روپے کمیشن لینا بھی جائزہے۔
وفى الحاوى:سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار،فقال:أرجو أنه لابأس به وإن كان فى الأصل فاسدا،لكثرة التعامل،وكثير من هذا غير جائز،فجوزوه لحاجة الناس. (ردالمحتار،كتاب الإجارة،باب ضمان الأجير9/87)