بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 30/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

باپ کا بیٹوں کی طرف سے یا بیٹوں کا باپ کی طرف سےقربانی کرنا


سوال

کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ باپ بیٹوں کی طرف سے یا بیٹے باپ کی طرف سے یا بھائی بھائی کی طرف سے قربانی کر سکتے ہیں یا نہیں ؟

جواب

حضرات صحابہ کرام  رضی اللہ عنھم سے اپنے لئے اور حضورﷺ کے لئے  اور اپنے   زندہ اور مرحومین عزیز و اقارب کے لئے قربانی کرناثابت ہے ،چنانچہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ ہمیشہ حضور ﷺ کے لئے اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما اپنے بیٹوں کی طرف سے قربانی کیا کرتے تھے ۔

صورت مسئولہ میں باپ کا اپنے بیٹوں  کی طرف سے اور بیٹوں کا باپ کی طرف سےاسی طرح بھائی کابھائی کی طرف سےنفلی قربانی کرنا بغیر اجازت کے بھی جائز ہے ، لیکن واجب  قربانی میں اس کی اجازت لینا ضروری ہے بغیر اجازت کے قربانی ادا نہ ہو گی ،تاہم اجازت عام ہے  چاہےصراحتا ً ہو یا دلالۃًقربانی ادا ہو جائیگی ۔

عَنْ حَنَشٍ، قَالَ: رَأَيْتُ عَلِيًّا يُضَحِّي بِكَبْشَيْنِ فَقُلْتُ لَهُ: مَا هَذَا؟ فَقَالَ: «إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْصَانِي أَنْ أُضَحِّيَ عَنْهُ فَأَنَا أُضَحِّي عَنْهُ»____(ابوداؤد ،باب الاضحیۃ عن المیت ج3،ص50)

ولو ضحى عن أولاده الكبار وزوجته لا يجوز إلا بإذنهم وعن الثاني أنه يجوز استحسانا بلا إذنهم (بزازية )

قال في الذخيرة ولعله ذهب إلى أن العادة إذا جرت من الأب في كل سنة صار كالإذن منهم فإن كان على هذا الوجہ فما استحسنه أبو يوسف مستحسن۔الر دالمحتار علی الدرالمختار،کتاب الاضحیہ ، ج 6 ،ص 315) 

وَإِنْ كَانُوا كِبَارًا إنْ فَعَلَ بِأَمْرِهِمْ جَازَ عن الْكُلِّ في قَوْلِ أبي حَنِيفَةَ وَأَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُمَا اللَّهُ تَعَالَى وَإِنْ فَعَلَ بِغَيْرِ أَمْرِهِمْ أو بِغَيْرِ أَمْرِ بَعْضِهِمْ لَا تَجُوزُ عنه وَلَا عَنْهُمْ في قَوْلِهِمْ جميعا۔)قاضیخان ،الباب السابع فی التضحیۃ عن الغیر، ج 5 ،ص302)


فتویٰ نمبر : 8694/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور