بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

گاؤں اور فوجی کیمپ میں نماز جمعہ


سوال

علمائے کرام سے گزارش ہے کہ جمعہ اور عیدین کے وجوب کی شرائط کے بارے میں تفصیل سے بتایا جائے کہ کتنی آبادی پر مشتمل گاؤں ہوتو اس میں نماز جمعہ اور عیدین واجب ہوتے ہیں۔ 2۔یہ بتایا جائے کہ چھوٹا گاؤں بڑے قصبے یا شہر سے کتنے کلو میٹر کے فاصلے پر ہوتو وہاں جمعہ اور عیدین کے وجوب کا حکم لگایا جائے گا ۔ 3۔ایک فوجی کیمپ جو کسی بارڈر یا گاؤں میں ہو اور اس میں جوانوں کو ضروریات زندگی یعنی سرکاری ٹرانسپورٹ ،موچی ،درزی،ہسپتال اور جنرل سٹور وغیرہ موجود ہوں تو اس میں جمعہ اور عیدین کے وجوب کا کیا حکم ہے

جواب

(1)جمعہ کے وجوب ادا  کے لئے  دوسری شرائط کے  علاوہ ایک شرط مصر یا بڑا گاؤں ہے جس میں بنیادی ضروریات پائی جاتی ہوں،  موجودہ دور میں جس علاقہ کی آبادی دو ڈھائی ہزار افراد پر مشتمل ہواور ضروریات زندگی اس میں میسر ہوں  تو  وہ بڑا گاؤں شمار ہوگا اور وہاں جمعہ پڑھنا جائز ہوگا۔

  (2)  توابع شہر  میں کلو میٹر اور فاصلے کا کوئی اعتبار نہیں بلکہ  توابع سے مراد شہر کے مضافات میں واقع وہ آبادی ہے جو مستقل گاؤں یا قصبہ  نہ ہو بلکہ شہر ہی کے توابع شمار ہوتی ہو ، چنانچہ جو آبادی شہر سے باہر ہو اور مستقل ایک گاؤں کی حیثیت رکھتی ہو اور عرف میں بھی وہ ایک الگ   گاؤں شمار ہوتا ہو تو اگر وہ خود بڑا  گاؤں نہ ہو تو اس میں نماز جمعہ جائز نہیں  ۔

(3)  اگر فوجی کیمپ کسی بڑے گاؤں کے حدود یااس کے توابع  میں ہو تواس میں نماز  جمعہ کا انعقاد صحیح ہے  ، لیکن اگر یہ  دونوں شرائط مفقود ہوں تو صرف ضرورت کا سامان مہیا ہونے کی وجہ سے نماز جمعہ کا انعقاد صحیح نہیں  ہوگا ۔

حنفیہ کے ہاں جن شرائط کے ساتھ جمعہ کی نماز واجب ہوتی ہے ،انہی شرائط کے ساتھ عیدین کی نماز  بھی واجب ہوگی اور جن شرائط کی موجودگی میں جمعہ کا انعقاد صحیح  ہوتا ہے انہیں شرائط کے  ساتھ عیدین کی نماز کا انعقاد بھی صحیح ہو جاتا ہے۔

لا تصح الجمعة إلا في مصر جامع أو في مصلى المصر (ھدایہ ج1 ص124)

قوله ( ورجح في البحر الخ ) هو ما استحسنه في البدائع وصحح في مواهب الرحمن قول أبي يوسف بوجوبها على من كان داخل حد الإقامة أي الذي من فارقه يصير مسافرا وإذا وصل إليه يصير مقيما وعلله في شرحه المسمى بالبرهان بأن وجوبها مختص بأهل المصر والخارج عن هذا الحد ليس أهله اه۔ ۔ قلت وهو ظاهر المتون وفي المعراج أنه أصح ما قيل۔ وفي الخانية المقيم في موضع من أطراف المصر إن كان بينه وبين عمران المصر فرجة من مزارع لا جمعة عليه وإن بلغه النداء وتقدير البعد بغلوة أو ميل ليس بشيء هكذا رواه أبو جعفر عن الإمامين وهو اختيار الحلواني۔ وفي التاتارخانية ثم ظاهر رواية أصحابنا لا تجب إلا على من يسكن المصر أو ما يتصل به فلا تجب على أهل السواد ولو قريبا وهذا أصح ما قيل فيه  وبه جزم في التجنيس (ردالمحتار علی الدرالمختارج2 ص153)

وَكَمَا يَجُوزُ أَدَاءُ الْجُمُعَةِ في الْمِصْرِ يَجُوزُ أَدَاؤُهَا في فِنَاءِ ۔۔۔۔ تَجِبُ صَلَاةُ الْعِيدِ على كل من تَجِبُ عليه صَلَاةُ الْجُمُعَةِ كَذَا في الْهِدَايَةِ ( الفتاوی الھندیۃ ،الفصل السابع عشر فی صلاۃ العیدین ج1ص149)


فتویٰ نمبر : 8702/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور