بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/11/2026 |
پاکستان کے کسی علاقہ میں سعودی عرب کے ساتھ عید اور قربانی
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ عربی اور اردوفتاوی جات میں عرفہ کے دن روزہ رکھنے کے لیے 9ذی الحجہ لکھا ہے اور عید الاضحی 10 ذی الحجہ کو ۔اب جو لوگ ہمارے ملک کے اطراف میں رہتے ہیں وہ سعودی عرب کے ساتھ عید مناتے ہیں اور قربانی کرتے ہیں جوکہ اکثر ہمارے ملک کے حساب سے 9 ذی الحجہ ہوتا ہے۔تو ان کی قربانی کا کیا حکم ہوگا۔صحیح یا غیر صحیح ۔واضح جواب دے کر ممنون فرمائیں ۔
جواب
جو شخص جس علاقے اور جس ملک میں رہتا ہے۔تو روزہ اور عید وقربانی میں اسی جگہ کی رویت اور فیصلے کا پابند ہوگا۔کسی اور علاقے یا ملک کی رویت اور حساب پر اس کے لیے روزہ رکھنا اور عید وقربانی کرنا جائز نہیں۔
صورت مسئولہ میں جو لوگ پاکستان میں مقیم ہیں۔وہ اپنی مقامی رویت کے اعتبار سے عید وقربانی کا اہتمام کرینگے۔کسی کا انفرادی طور پر سعودی عرب کی رویت اور حساب پر عید وقربانی کرنا جائز نہیں ،ایسی قربانی سے ذمہ فارغ نہ ہوگا۔
عن أبي هريرة : أن النبي صلى الله عليه و سلم قال الصوم يوم تصومون والفطر يوم تفطرون والأضحى يوم تضحون۔(سنن الترمذی ج1 ص88)
لو صام رائی ھلال رمضان واکمل العدۃ لم یفطر الا مع الامام لقولہ علیہ السلام صومکم یوم تصومون وفطرکم یوم تفطرون۔(ردالمحتار،کتاب الصوم،ج3 ص351)
واما الذی یرجع الی وقت التضحیۃ،فھو انھا لا تجوز قبل دخول الوقت،لان الوقت کما ھو شرط الوجوب،فھو شرط جواز اقامۃ الواجب۔(بدائع الصنائع،کتاب التضحیۃ،فصل فی شروط جواز اقامۃ الواجب ج6 ص308)