بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/08/2026 |
دھاگہ دم کرکے باندھنا
سوال
جواب
جسمانی امراض کا علاج دوائیوں کی طرح بسا اوقات دم اور تعویذ سے کیا جاتا ہے ،دم یا تعویذ سے علاج کرنے میں تین شرائط کا خیال رکھنا ضروری ہے ورنہ جائز نہ ہوگا :
(1)دم یا تعویذ ،اللہ جل شانہ کے اسما وصفات یا دیگر اذکار مسنونہ وماثورہ سے ہو ۔
(2)جھاڑ پھونک اور تعویذ عربی زبان میں ہو یا ایسی زبان میں ہو جس کا معنی ومفہوم معلوم ہو تاکہ کفر وشرک اور ارواح خبیثہ سے استعانت کا شبہ باقی نہ رہے ۔
(3)دم اور تعویذ کو صرف علاج اور شفا کا سبب تصور کیا جائے ۔حقیقی مؤثر اور شفا دینے والا اللہ تعالی کو مانا جائے۔
صورت مسؤلہ میں جسم کے کسی عضو پر دھاگہ باندھنے کی مندرجہ ذیل تین صورتیں ہو سکتی ہیں جن میں سے ہر ایک کا حکم جدا جدا ہے:
(1)بغیر جھاڑ پھونک اور علاج کی نیت کے محض عرف ورواج کی خاطر دھاگہ باندھنا ۔شرعا یہ فعل مکروہ اور عبث ہے جس سے اجتناب ضروری ہے ۔
(2)دم کرکے مریض کے کسی عضو پر اس عقیدہ سے دھاگہ باندھنا کہ یہ شفا یابی میں مؤثر حقیقی کا درجہ رکھتا ہے ۔چونکہ یہ فعل مشرکانہ عقائد کی ترجمانی کرتا ہے جس سے ایمان کھو بیٹھنے کا قوی اندیشہ ہے،اس لیے شرعا یہ ممنوع اور ناجائز ہے ۔
(3)شروع میں مذکور تین شرائط کے ساتھ دھاگہ دم کرکے بیمار کے کسی عضو پر باندھنا ۔اس تیسری صورت میں اگر دھاگہ دم کرکے باندھنے کو علاج میں مؤثر حقیقی نہ سمجھا جائے تو روایات کی روشنی میں یہ بات کہی جا سکتی ہےکہ اس قسم کا دھاگہ باندھنا شریعت سے متصادم نہیں ،اس لیے کہ جن روایات میں دم،تعویذاور گھنڈوں سے ممانعت کا تذکرہ ہےمحدثین حضرات کی تشریحات سے معلوم ہوتا ہےکہ یہ ممانعت اس دم اور تعویذ وغیرہ سے متعلق ہے جس سے غلط اور مشرکانہ عقائد کی ترجمانی ہو یا آئندہ ان کی وجہ سے مشرکانہ عقائد میں پڑنے کا خطرہ ہو۔
وقد اجمع العلماء علی جواز الرقی عند اجتماع ثلاثةشروط :ان یکون بکلام الله اوباسماءه وصفاته وبلسان العرب اوبمایعرف معناه من غیره وان یعتقدان الرقيةلاتؤثر بذاتها بل بذات الله تعالی۔(فتح الباری،کتاب الطب،باب الرقی بالقرآن والمعوذات11/352)
وعن زینب امراة عبدالله ابن مسعود رضى الله عنه ان عبدالله راى فى عنقي خيطا فقال ما هذا ؟فقلت خيط رقي لي فيه قالت فاخذه فقطعه ،ثم قال :انتم آل عبد الله لاغنياء عن الشرك۔۔۔قال القاضى:وانما اطلق الشرك عليها ؛اما لان المتعارف منها فى عهده ما كان معهودا فى الجاهلية ،وكان مشتملا على ما يتضمن الشرك۔۔۔ويحتمل ان يراد بالشرك اعتقاد ان ذالك سبب قوي وله تاثير وكان ينافي التوكل والانحراط فى زمرة اللذين لا يسترقون ولا يتطيرون وعلى ربهم يتوكلون ۔(عون المعبودشرح سنن ابي داؤد ،كتاب الطب ،باب فى الرقى 10/297)
عن عبدالله ابن مسعود رضى الله عنه رفعه "ان الرقى والتمائم والتولة شرك "والتمائم جمع تميمة ،وهى خرز او قلادة تعلق فى الراس ،كانوا فى الجاهلية يعتقدون ان ذالك يدفع الآفات ۔۔۔وانما كان ذالك من الشرك،لانهم ارادوا دفع المضار وجلب المنافع من عند غير الله ،ولا يدخل فى ذالك ما كان باسماء الله تعالى وبكلامه فقد ثبت فى الاحاديث استعمال ذالك قبل وقوعه ،كما فى البخارى من حديث عائشة رضى الله عنها انه صلى الله عليه وسلم كان اذا اوى الى فراشه ينفث بالمعوذات ويمسح بهما وجهه۔(اوجزالمسالك الى مؤطا امام مالك ،باب الرقية من العين 16/372)
قال الخطابى :واما الرقی فالمنهي عنه ما كان منها بغير لسان العرب فلا يدرى ماهو ولعله قد يدخله سحرا او كفرا واما اذا كان مفهوم المعنى وكان فيه ذكر الله سبحانه فانه مستحب ومتبرك ،التمائم جمع تميمة وهى التعويذة اللتي لا يكون فيها اسماءالله تعالى ...قال فى النهايةالتمائم وهى خرزات يتقون بها العين فى زعمهم فابطلها الاسلام ...والتولة نوع من السحر او خيط يقرا فيه من السحر او قرطاس يكتب فيه شيئ من السحر للمحبة او غيرها۔(عون المعبود،باب فى تعليق التمائم 10/297 )
قال الزیلعی :ثم الرتیمة قد تشتبه بالتميمة على بعض الناس وهى خيط كان يربط فى العنق او فى اليد فى الجاهلية لدفع المضرة عن انفسهم على زعمهم وهو منهي عنه ،وذكر فى حدود الايمان انه كفر ۔
من عادة بعض الناس شدالخیوط علی بعض الاعضاء وکذا السلاسل وغیرها ،وذالک مکروه لانه محض عبث(رد المحتار على الدر المختار ،كتاب الحظر والاباحة،فصل فى اللبس 9/523)
ولعل تعليق ما هو مجرب بالطب جائز۔(العرف الشذي شرح سنن الترمذي، كتاب الطب ،باب تعليق التمائم،3/360)