بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/08/2026 |
شوہر کی وفات کے بعد بیوی کا سسر سے مہر مانگنا
سوال
جواب
واضح رہے کہ نکاح کے وقت جو مہر مسمی اور متعین کیا جاتا ہے شرعا اس کی ادائیگی شوہر کے ذمہ واجب ہوتی ہے البتہ اگر سسر یا کوئی دوسرا شخص شوہر کی طرف سے مہر ادا کرنے کی ذمہ داری قبول کر لے تو ان سے بھی مطالبہ کیا جا سکتا ہے۔
صورت مسؤلہ میں اگر حسب بیان شوہر نے بیوی کیلئے 20 تولہ بطور مہر مقرر کیا تھا لیکن وہ اس میں سے صرف 10 تولہ سونا ادا کرنے کے بعد فوت ہو گیا تو بقیہ مہر اس کے ذمےقرض ہے ۔اگر اس کے ترکہ میں اتنا مال ہو کہ جس سے بقیہ تمام مہر یا اس کا کچھ حصہ ادا کیا جا سکے تو ادا کیا جائے گا ورنہ یہ اسی کے ذمہ قرض رہااگر بیوی معاف نہ کرے تو شوہر قیامت کے دن اس کا حساب دے گا۔ اگر اس کے والدین یا بھائیوں نے اس مہر کےادا کرنے کی ذمہ داری قبول نہیں کی تھی تو ان سے مطالبہ نہیں کیا جاسکتا۔
والمهر یتاکد باحد معان ثلاثة:الدخول والخلوة الصحیحةوموت احد الزوجین سواء کان مسمی او مهر المثل حتی لا یسقط منه شیئ بعد ذالک الا بالابراء من صاحب الحق ۔ (الفتاوی الهندیة،کتاب النکاح ،الباب السابع فی المهر،الفصل الثانی ج1 ص370)
ولا يطالب الأب الخ لأن المهر مال يلزم ذمة الزوج ولا يلزم الأب بالعقد۔(رد المحتار ،كتاب النكاح،باب المهر4/286)
( وصح ضمان الولي مهرها ولو ) المرأة ( صغيرة )۔۔۔ ( وتطالب أيا شاءت ) من زوجها البالغ أو الولي الضامن۔(تنویر الابصار مع الدر المختار،کتاب النکاح باب المھر 4/286)
وإذا تأكد المهر بما ذكر لا يسقط بعد ذلك وإن كانت الفرقة من قبلها لأن البدل بعد تأكده لا يحتمل السقوط إلا بالإبراء كالثمن إذا تأكد بقبض المبيع ۔(رد المحتار،کتاب النکاح،باب المھر4 /232)
تتعلق بترکۃ المیت حقوق اربعۃمرتبۃ:الأول :يبدأ بتكفينه و تجهيزه۔۔۔ثم تقضی ديونه من جميع ما بقي من ماله۔(السراجي في الميراث :الحقوق المتعلقة بتركة الميت:5)