بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

شوہر کی وفات کے بعد بیوی کا سسر سے مہر مانگنا


سوال

میرے بیٹے کی شادی 2004 میں ہوئی اس وقت حق مہر میں (20) تولہ سونا لکھا جس میں (10) تولہ موجود اور باقی (10) تولہ سونا عند الطلب تھا کچھ عرصہ بعد میرے بیٹے کا انتقال ہو گیا اس کی اب بیوی اور ایک بیٹی ہے تو اس کی بیوی نے اس باقی(10) تولہ سونا کا مطالبہ سسر سے کیا ہے کیا شرعا یہ مطالبہ درست ہے؟

جواب

واضح رہے کہ نکاح کے وقت جو مہر مسمی اور متعین کیا جاتا ہے شرعا اس کی ادائیگی شوہر کے ذمہ واجب ہوتی ہے البتہ اگر سسر یا کوئی دوسرا شخص شوہر کی طرف سے مہر ادا کرنے کی ذمہ داری قبول کر لے تو ان سے بھی مطالبہ کیا جا سکتا ہے۔

            صورت مسؤلہ میں اگر حسب بیان شوہر نے بیوی  کیلئے 20 تولہ بطور مہر مقرر کیا تھا لیکن وہ اس میں  سے صرف 10 تولہ سونا  ادا کرنے کے بعد فوت ہو گیا تو بقیہ مہر اس کے ذمےقرض ہے ۔اگر اس کے ترکہ میں اتنا مال ہو کہ جس سے بقیہ تمام مہر یا اس کا کچھ حصہ ادا کیا جا سکے تو ادا کیا جائے گا ورنہ یہ اسی کے  ذمہ قرض رہااگر بیوی معاف نہ کرے تو شوہر قیامت کے دن اس کا حساب دے گا۔ اگر اس کے والدین یا بھائیوں نے اس مہر کےادا کرنے کی ذمہ داری قبول نہیں کی تھی تو ان سے مطالبہ نہیں کیا جاسکتا۔

  والمهر یتاکد باحد معان ثلاثة:الدخول والخلوة الصحیحةوموت احد الزوجین سواء کان مسمی او مهر المثل حتی لا یسقط منه شیئ بعد ذالک الا بالابراء من  صاحب الحق ۔ (الفتاوی الهندیة،کتاب النکاح ،الباب السابع فی المهر،الفصل الثانی ج1 ص370)                                   

 ولا يطالب الأب الخ لأن المهر مال يلزم ذمة الزوج ولا يلزم الأب بالعقد۔(رد المحتار ،كتاب النكاح،باب المهر4/286)

 ( وصح ضمان الولي مهرها ولو ) المرأة ( صغيرة )۔۔۔ ( وتطالب أيا شاءت ) من زوجها البالغ أو الولي الضامن۔(تنویر الابصار مع الدر المختار،کتاب النکاح باب المھر 4/286)

وإذا تأكد المهر بما ذكر لا يسقط بعد ذلك وإن كانت الفرقة من قبلها لأن البدل بعد تأكده لا يحتمل السقوط إلا بالإبراء كالثمن إذا تأكد بقبض المبيع ۔(رد المحتار،کتاب النکاح،باب المھر4 /232)

تتعلق بترکۃ المیت حقوق اربعۃمرتبۃ:الأول :يبدأ بتكفينه و تجهيزه۔۔۔ثم تقضی ديونه من جميع ما بقي من ماله۔(السراجي في الميراث :الحقوق المتعلقة بتركة الميت:5)


فتویٰ نمبر : 6157/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور