بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

موقوفہ تالاب سے انتفاع بالکلیہ ختم ہونے کے بعد اس کاحکم


سوال

كيا فرماتےہیں علماء کرام اس مسئلہ کےبارے میں کہ ہمارے شجرہ نسب میں ہمارے چھٹے دادا مرحوم دادمیر نے تقریبا دو سو سال قبل لگ بھگ 35 یا 40 مرلے میں ایک تالاب بنایا مال مویشی کے لیے چونکہ اس وقت پانی کی قلت تھی تو دادا مرحوم نے یہ تالاب کھودا اور مال مویشی کے پانی پینے کے لیے وقف کردیا۔ اب پانی کی قلت نہیں رہی اور نہ مال مویشی کے ریوڑ اب یہ تالاب جوں کاتوں پڑا ہوا ہے اب اس میں پانی بھی نہیں اور جو ضرورت تھی وہ بھی ختم ہوچکی ۔اب کیا ہم لوگ تالاب کی زمین ذاتی استعمال میں لا سکتے ہیں،یا کسی دوسری زمین پر کسی دوسرے فریق کے ساتھ تبدیل کر سکتے ہیں،اس کو بیچ یا باہم تقسیم کر سکتے ہیں، موقوفہ زمین اس وقت کیاشرعی حیثیت رکھتی ہے؟

جواب

فقہاء کرام کی توضیحات سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ جب کوئی جگہ کسی خاص مصرف کے لیے وقف کردی جائے تو اس کو اسی مصرف میں استعمال کیا جائے گا ۔البتہ اگر اس مصرف میں استعمال بالکلیہ فوت ہوجائےتو وہ چیز وقف سے نکل کر  واقف کی ملکیت میں دوبارہ آجائے گی  اگر واقف زندہ ہو تووہ اس کا مالک ہوگا ورنہ ورثاء مالک ہوں گے ۔

صورت مسئولہ میں جب داد میر مرحوم نے زمین مویشیوں کے تالاب کے واسطے ہی وقف کی تھی تو اب اگر واقعتا پانی کی فراوانی اور جانوروں کی عدم دستیابی کی وجہ سے اس تالاب کی ضرورت باقی نہ رہی ہواور تالاب سے انتفاع بالکلیہ فوت ہوچکا ہو تو یہ زمین ورثاء کی ملکیت میں لوٹ آئے گی ۔اب ورثاء کو یہ حق حاصل ہے کہ زمین کوتقسیم کرکے ذاتی استعمال میں لائیں یا اس کی خریدوفروخت کریں ۔

حَوْضٌ في مَحَلَّةٍ خَرِبَ فَصَارَ بِحَيْثُ لَا تُمْكِنُ عِمَارَتُهُ وَاسْتَغْنَى أَهْلُ الْمَحَلَّةِ عنه إنْ كان يُعْرَفُ وَاقِفُهُ يَكُونُ له إنْ كان حَيًّا وَإِلَى وَرَثَتِهِ إنْ كان مَيِّتًا وَإِنْ كان لَا يُعْرَفُ وَاقِفُهُ فَهُوَ كَاللُّقَطَةِ في أَيْدِيهِمْ يَتَصَدَّقُونَ بِهِ على فَقِيرٍ ثُمَّ يَبِيعُهُ الْفَقِيرُ فَيَنْتَفِعُ بِالثَّمن۔(الفتاویٰ الہندیۃ ،کتاب الوقف ،ج2، ص419)

رباط یستغنی عنہ ۔۔۔یرجع الی ورثۃ الذی بنی الرباط ۔(الفتاوی الھندیہ،کتاب الوقف،ج2،ص428)

القضاء بخلاف شرط الوقف کالقضاء بخلاف النص لاینفذ لقول العلماء شرط الوقف کنص الشارع ۔ (الاشباہ والنظائر، ص169)

 


فتویٰ نمبر : 4471/27/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور