بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/08/2026 |
موقوفہ تالاب سے انتفاع بالکلیہ ختم ہونے کے بعد اس کاحکم
سوال
جواب
فقہاء کرام کی توضیحات سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ جب کوئی جگہ کسی خاص مصرف کے لیے وقف کردی جائے تو اس کو اسی مصرف میں استعمال کیا جائے گا ۔البتہ اگر اس مصرف میں استعمال بالکلیہ فوت ہوجائےتو وہ چیز وقف سے نکل کر واقف کی ملکیت میں دوبارہ آجائے گی اگر واقف زندہ ہو تووہ اس کا مالک ہوگا ورنہ ورثاء مالک ہوں گے ۔
صورت مسئولہ میں جب داد میر مرحوم نے زمین مویشیوں کے تالاب کے واسطے ہی وقف کی تھی تو اب اگر واقعتا پانی کی فراوانی اور جانوروں کی عدم دستیابی کی وجہ سے اس تالاب کی ضرورت باقی نہ رہی ہواور تالاب سے انتفاع بالکلیہ فوت ہوچکا ہو تو یہ زمین ورثاء کی ملکیت میں لوٹ آئے گی ۔اب ورثاء کو یہ حق حاصل ہے کہ زمین کوتقسیم کرکے ذاتی استعمال میں لائیں یا اس کی خریدوفروخت کریں ۔
حَوْضٌ في مَحَلَّةٍ خَرِبَ فَصَارَ بِحَيْثُ لَا تُمْكِنُ عِمَارَتُهُ وَاسْتَغْنَى أَهْلُ الْمَحَلَّةِ عنه إنْ كان يُعْرَفُ وَاقِفُهُ يَكُونُ له إنْ كان حَيًّا وَإِلَى وَرَثَتِهِ إنْ كان مَيِّتًا وَإِنْ كان لَا يُعْرَفُ وَاقِفُهُ فَهُوَ كَاللُّقَطَةِ في أَيْدِيهِمْ يَتَصَدَّقُونَ بِهِ على فَقِيرٍ ثُمَّ يَبِيعُهُ الْفَقِيرُ فَيَنْتَفِعُ بِالثَّمن۔(الفتاویٰ الہندیۃ ،کتاب الوقف ،ج2، ص419)
رباط یستغنی عنہ ۔۔۔یرجع الی ورثۃ الذی بنی الرباط ۔(الفتاوی الھندیہ،کتاب الوقف،ج2،ص428)
القضاء بخلاف شرط الوقف کالقضاء بخلاف النص لاینفذ لقول العلماء شرط الوقف کنص الشارع ۔ (الاشباہ والنظائر، ص169)