بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 30/08/2026 |
ختم قرآن کے موقع پر جمع شدہ رقم مسجد میں خرچ کرنا
سوال
جواب
مساجد میں عوام جو چندہ دیتے ہیں اگر اس کے لئے کسی خاص مصرف کی تعیین کریں تو اسی مصرف میں خرچ کرنا ضروری ہے لیکن اگر چندہ دہندہ گان کسی خاص مصرف کی تعیین کئے بغیر چندہ دیں تو اس کو مساجد کے مصارف و مصالح میں خرچ کیا جا سکتا ہے ۔تاہم تراویح میں ختم قرآن کے موقع پر جو چندہ اکھٹا کیا جاتا ہے وہ عموما مسجد کے مصالح سے جدا ہوتا ہے لہذا اس کو اسی مد میں خرچ کرنا ضروری ہے ۔
صورت مسئولہ میں اگر اہل محلہ نے چندہ محض ختم قرآن کے واسطے دیا ہو تو ان کی اجازت کےبغیر مسجد کے فنڈ میں اس کا استعمال جائز نہیں البتہ اگر چندہ عمومی ثواب اور رضائے الہی کی نیت سے دیا گیا ہو تو زائد رقم مسجد کے مصالح میں استعمال کرنا درست ہے ۔
الوكيل انما يستفيد التصرف من الموكل و قد امره بالدفع الی غيره كما لو اوصی لزيد بكذا ليس للو صي الدفع الی غيره فتامل .(رد المحتار علی الدر المختار كتاب الزكوة مطلب في زكوة ثمن المبيع وفاء ج3ص189)
واذا اراد ان يصرف شيئا من ذالك الی امام المسجد او الی مؤذن المسجد فليس له ذالك الا ان كان الواقف شرط ذالك فی الوقف .(الفتاوی الهندية الفصل الثاني فی الوقف و تصرف القيم و غيره ج2 ص463)