بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/11/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

طویل عرصہ قبل قرض لیے ہوئے ریال کی واپسی


سوال

ایک شخص نے میرے چچا کو آج سے پچیس/تیس برس پہلے چار ہزار ریال قرض میں دیئے تھے اب وہ قرض پورے کے پورے چار ہزار ریال ہی مانگ رہا ہے اب سوال یہ ہے کہ: (1)اگر چار ہزار ریال ہی قرض ادا کئے جائیں تو(چونکہ پچیس /تیس برس پہلے کی بنسبت ریال کی قیمت کافی بڑھ چکی ہے)کیا یہ اضافی قیمت سود میں شمار ہوگی یا نہیں ؟ (2)اگر انہوں نے اس طرح پورے کے پورے چار ہزار ریال ہی کی شرط لگائی گئی ہو تو کیا یہ شرط ٹھیک ہے یا نہیں ؟ برائے کرم اصلاح فرمائیں۔

جواب

شریعت مطہرہ میں قرض دینا احسان کا معاملہ ہے اس پر کسی قسم کا مشروط یا معروف منافع حاصل کرنا سود کے زمرے میں آتا ہے جو کہ جائز نہیں ،فقہاء کرام ؒ کے بیان کردہ اصول کے مطابق قرض کی واپسی اس کے مثل سے کی جائی گی لہذا جو کرنسی قرض لی گئی ہو وہی کرنسی اسی مقدار میں واپس کرنا ضروری   ہو گا ۔

صورت مسئولہ میں :(1)جس شخص نے سائل کے چچا کو چار ہزار ریال قرض دیئے تھے اور اب پچیس/تیس سال بعد قرض مانگتا ہے تو ریال کی قیمت اگرچہ بڑھ چکی ہے لیکن پھر بھی  شرعامقروض پر چار ہزار ریال قرض کی واپسی لازم ہے  ،ریال کی قیمت بڑ ھنے کی وجہ سے  سود لازم نہیں آتا اس لیے کہ وہ  اپنا دیا ہوا قرض (چار ہزار ریال) ہی واپس لیتا ہے جو اس کا حق بنتا ہے ۔

(2) قرض خواہ اگر قرض دیتے وقت قرض دار سے یہ شرط لگائے کہ ادائیگی کے وقت مجھے اسی مقدار میں یہی کرنسی واپس کروگے تو یہ شرط شریعت کے مطابق ہے جو کہ جائز ہے ۔

(القرض)هوعقد مخصوص يرد على دفع مثلي ليرد مثله.(تنوير الابصار،كتاب البيوع،فصل فى القرض7/388)

الديون تقضی بامثالها ۔(شرح الاشباه والنظائر،الفن الثاني،كتاب المداينات،2/349)

رجل استقرض من آخر مبلغا من الدراهم وتصرف بها ثم  غلاا سعرهافهل عليه ردمثلها؟ نعم ولا ينظر الى غلاء الدراهم ورخصها ۔(تنقيح الحامدية،باب القرض ،1/294،مكتبه حقانية)

وان استقرض دانق فلس او نصف درهم فلوس ثم رخصت او غلت لم يكن عليه الا مثل عدد الذي اخذه۔(ردالمحتاركتاب البيوع،باب المرابحة والتولية ،7/390)


فتویٰ نمبر : 2730/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور