بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 30/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

دکاندارکااصل قیمت سے زیادہ قیمت بتانا


سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین وشرع متین کہ دوکاندار گاہک کو اس لئے قیمت زیادہ بتاتا ہے کہ پھر اس کے چھیڑ چھاڑ سے زیادہ بتلائی ہوئی قیمت کم کردونگا ،اسی طرح گاہک بھی پہلے کم قیمت بتا کر پھر زیادہ کردیتا ہے،تو ان دونوں کا ایسا کرنا جائز ہے ؟ وضاحت کریں۔

جواب

روز مرہ زندگی میں خریدو فروخت کی ضرورت واہمیت کسی سے مخفی نہیں ،  شریعت نے خریدوفروخت کے لئے اصول اورشرائط مقرر کیے ہیں  جن کی پاسداری لازم ہے اس لئے خریدوفروخت میں ہر ایسے فعل سے بچنا چاہیے جو شریعت سے متصادم ہو۔

جہاں تک  دوکاندار اور گاہک کے درمیان نرخ کی تقرری کا تعلق ہے ،تو بہتر یہ ہے کہ کسی چیز کی اصل قیمت  بیان کی جائے خوامخواہ زیادہ قیمت ذکر نہ کی جائے ،اسی طرح گاہک کے لئے بھی مناسب نہیں ہے کہ بلا ضرورت   قیمت کم  کرنے میں چھیڑ کرے اسی طرح چھیڑ خانی کو مکروہ قرار دیا گیاہے ۔ تاہم موجودہ دور میں چونکہ دوکاندار اور گاہک کے درمیان اعتماد کا فقدان ہے اور یہ ایک رواج چل پڑا ہے کہ دوکاندار اشیاء کی قیمت زیادہ بتاتا ہے اور گاہک کم کرنے پر اصرار کرتا ہے تو جانبین کے اموال کے تحفظ اور  اتفاق پیدا کرنے کی خاطر  کمی بیشی  کے ساتھ معاملہ درست ہے  تا کہ معاملہ میں حرج واقع نہ ہو ۔

2204 - حدثنا يعقوب بن حميد بن كاسب حدثنا يعلى بن شبيب عن عبد الله بن عثمان بن خثيم عن قيلة أم بني أنمار قالت أتيت رسول الله صلى الله عليه و سلم في بعض عمره عند المروة فقلت يا رسول الله إني امرأة أبيع وأشتري فإذا أردت أن أبتاع الشيء سمت به أقل مما أريد ثم زدت ثم زدت حتى أبلغ الذي أريد وإذا أردت أن أبيع الشيء سمت به أكثر من الذي أريد ثم وضعت حتى أبلغ الذي أريد فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم: -  لا تفعلي يا قيلة إذا أردت أن تبتاعي شيئا فاستامي به الذي تريدين أعطيت أو منعت )و إذا أردت أن تبيعي شيئا فاستامي به الذي تريدين أعطيت أو منعت )ابن ماجہ باب السوم ،ج2 ،ص743)

المشقۃ تجلب التیسیرالامر اذاضاق اتسع واذااتسع  ضاق۔۔۔۔(الاشبا ہ و النظائر ج 1 : ص 226،249)


فتویٰ نمبر : 2731/27/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور