بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/08/2026 |
ناک میں ریشے کی وجہ سے روزہ چھوڑنا
سوال
جواب
واضح رہے کہ کسی شخص کا اس قدر بیمار ہونا کہ روزہ رکھنے کی وجہ سے جان جانے یا کسی عضو یا کسی صلاحیت کے فوت ہونے کا اندیشہ ہو تو روزہ توڑنا واجب ہے اور اگر روزہ رکھنے سے بیماری کے بڑھ جانے کا اندیشہ ہو یا کوئی مسلمان عادل ماہر طبیب اسے روزہ رکھنے سے منع کرے تو ایسی صورت میں مریض کو افطار کی اجازت ہے۔
صورت مسؤلہ کے مطابق اگر ناک میں ریشہ کی بندش کی وجہ سے زخم بنتا ہو یا مرض میں اضافہ کا سبب ہو اور مسلمان عادل ماہر طبیب روزہ رکھنے سے منع کرے تو افطار کی اجازت ہوگی اور ان روزوں کی قضا لازم ہوگی البتہ اگر ناک میں بندش اس قدر ہو کہ اس کے ہوتے ہوئے روزہ رکھنا ممکن ہو اور ناک میں بندش سے زخم بننے یا بیماری کے بڑھنے کا اندیشہ نہ ہو تو ایسی صورت میں روزہ افطار کر نے کی اجازت نہیں ہوگی۔
الْمَرِيضُ إذَا خَافَ على نَفْسِهِ التَّلَفَ أو ذَهَابَ عُضْوٍ يُفْطِرُ بِالْإِجْمَاعِ وَإِنْ خَافَ زِيَادَةَ الْعِلَّةِ وَامْتِدَادَهَا فَكَذَلِكَ عِنْدَنَا وَعَلَيْهِ الْقَضَاءُ إذَا أَفْطَرَ كَذَا في الْمُحِيطِ ثُمَّ مَعْرِفَةُ ذلك بِاجْتِهَادِ الْمَرِيضِ وَالِاجْتِهَادُ غَيْرُ مُجَرَّدِ الْوَهْمِ بَلْ هو غَلَبَةُ ظَنٍّ عن أَمَارَةٍ أو تَجْرِبَةٍ أو بِإِخْبَارِ طَبِيبٍ مُسْلِمٍ غَيْرِ ظَاهِرِ الْفِسْقِ۔(الفتاوي الهنديه ، كتاب الصوم ، الباب الخامس ، 1/207)