بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

کاغذات میں مندرج مقدار سے زیادہ زمین کا فروخت کرنا


سوال

کیافرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید نے ایک زمین کاسوداکیا جس کارقبہ کاغذات میں تین کنال تھا اور خریدنے سے پہلے جب زید نے پیمائش کی تووہ زمین تین کنال دس مرلے نکل آئی جس کاعلم پہلے سے پلاٹ کے مالک کوتھا کہ یہ زمین کاغذات میں تین کنال جبکہ پیمائش میں تین کنال دس مرلے ہے، اب زید نے مالک زمین سے اس طرح سوداکیا کہ میں یہ پلاٹ آپ سے کاغذات کی بنیاد پر لوں گا اگر چہ پیمائش میں دس مرلے زیادہ ہیں۔مالک زمین زیدکے اس سودا پرراضی ہوا ۔ کیاشریعت کی رو سے اس طرح کاسودا کرنادست ہے؟

جواب

عاقدین کی باہمی رضامندی سے مال کامال سے تبادلہ  بیع کہلاتا ہے،  بیع  کے انعقاد کے لیے ضروری ہے کہ مبیع بائع کی ملکیت ہو،اور جانبین  سے ایجاب وقبول پائے جائیں۔ سرکاری کاغذات  فقط کسی شخص کی  ملکیت کوظاہرکرتےہیں  یعنی ملکیت کی ظاہری علامت ہوتی ہے نہ کہ سبب ملکیت ،یہی وجہ ہے کہ کاغذات کے بغیر بھی زمین کی خریدوفروخت شرعاً درست ہے،البتہ کاغذات ملکیت کے لیےایک وثیقہ ضرور ہوتے ہیں۔ صورت مسئولہ میں  اگر تین کنال کے ساتھ دس مرلے  کی زائد زمین بھی  بائع ہی کی ملکیت ہو اور وہ اس کے بیچنے  اور مشتری (زید) اسے خریدنے پرراضی ہو توایسی صورت مین شرعاً یہ بیع درست ہے اگر چہ کاغذات میں صرف تین کنال لکھا گیا ہو۔

 " ھو مبادلۃ المال بالمال بالتراضی"   (البحرالرائق،کتاب البیع،ج5ص 430)

"أما شرائط الانعقاد فأنواع۔۔۔ ومنها في العقد وهوموافقة القبول للإيجاب۔۔۔ومنها في المبيع وهوأن يكون موجودا۔۔۔وأن يكون مملوكا في نفسه وأن يكون ملك البائع فيما يبيعه لنفسه". (الهندية،كتاب البيوع،ج3 ص5)


فتویٰ نمبر : 2729/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور