بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/08/2026 |
کاغذات میں مندرج مقدار سے زیادہ زمین کا فروخت کرنا
سوال
جواب
عاقدین کی باہمی رضامندی سے مال کامال سے تبادلہ بیع کہلاتا ہے، بیع کے انعقاد کے لیے ضروری ہے کہ مبیع بائع کی ملکیت ہو،اور جانبین سے ایجاب وقبول پائے جائیں۔ سرکاری کاغذات فقط کسی شخص کی ملکیت کوظاہرکرتےہیں یعنی ملکیت کی ظاہری علامت ہوتی ہے نہ کہ سبب ملکیت ،یہی وجہ ہے کہ کاغذات کے بغیر بھی زمین کی خریدوفروخت شرعاً درست ہے،البتہ کاغذات ملکیت کے لیےایک وثیقہ ضرور ہوتے ہیں۔ صورت مسئولہ میں اگر تین کنال کے ساتھ دس مرلے کی زائد زمین بھی بائع ہی کی ملکیت ہو اور وہ اس کے بیچنے اور مشتری (زید) اسے خریدنے پرراضی ہو توایسی صورت مین شرعاً یہ بیع درست ہے اگر چہ کاغذات میں صرف تین کنال لکھا گیا ہو۔
" ھو مبادلۃ المال بالمال بالتراضی" (البحرالرائق،کتاب البیع،ج5ص 430)
"أما شرائط الانعقاد فأنواع۔۔۔ ومنها في العقد وهوموافقة القبول للإيجاب۔۔۔ومنها في المبيع وهوأن يكون موجودا۔۔۔وأن يكون مملوكا في نفسه وأن يكون ملك البائع فيما يبيعه لنفسه". (الهندية،كتاب البيوع،ج3 ص5)