بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/11/2026 |
مہر مسمی سے مراد/مہر معجل اورمؤجل میں فرق/بغیر مہر نکاح کا حکم
سوال
جواب
واضح رہے کہ نکاح کرتے وقت مہر متعین نہ کرنے سے نکاح کے انعقاد پر کوئی اثر نہیں پڑتا تاہم حنفیہ کے ہاں ہر وہ چیز مہر بن سکتی ہے جو کہ مال ہو ، متقوم ہو ، اور معلوم و متعین ہو خواہ گفتگو کے ذریعے سے اس کی تعیین کی جائے یا اشارہ کے ذریعے سے اگر تعیین کرتے وقت ان شرائط میں سے کوئی شرط فوت ہو جائے تو مہر مثل ادا کیا جائے گا ۔
(1)صورت مسئولہ میں جب زید نے نکاح نامے میں چار تولے سونا اور ایک کمرہ حق مہر میں لکھ لیا اور نکاح پڑھاتے وقت مہر مسمی یعنی( جو مہر جانبین نے طے کیا ہے ) کے الفاظ سے سے نکاح پڑھایا گیا تو نکاح منعقد ہو جائے گا اور مہر مسمی ہی لازم ہوگا کیونکہ مہر مسمی کے الفاظ سے نکاح نامے میں لکھے ہوئے مہر کی طرف اشارہ ہے اور اگر نکاح نامے میں لکھا ہوا مہر مراد نہ ہو تو مہر مثل واجب ہوگا۔
(2) تمام فقہائے کرام کے نزدیک عقد نکاح کے وقت مہر کی ادائیگی ضروری نہیں بلکہ پورا مہر ادا کرنا ، یا مہر کا کچھ حصہ ادا کرنا اور کچھ مہر کے وقت مقرر کرنا یا پورے کا پورا مہر ادھار ہونا یہ تمام صورتیں جائز ہیں تاہم اگر پورا مہر فورا ادا کرنے کی شرط لگائی گئی ہو یا عقد نکاح کے وقت تعجیل اور تاجیل کے تذکرے کئے بغیر مہر مقرر ہو ا ہو یا تاجیل کے ساتھ مقرر ہوا ہو لیکن اس میں وقت کی تعیین نہ ہو یا وقت کی تعیین ہو لیکن تعیین کا سبب مجہول ہو تو ان تمام صورتوں میں مہر معجل متصور ہوگا اور اگر مہر کی ادائیگی تاجیل کے ساتھ ہو اور ادائیگی کے لیے خاص وقت متعین کیا ہو تو مہر مؤجل کہلائے گا ۔
(3) مہر کا ثبوت بہر حال ہوتا ہے چاہے عقد کے وقت تعیین ہو یا نہ ہو عدم تعیین کی صورت میں مہر مثل واجب ہوگا یعنی جو مہر لڑکی کے پدری رشتہ دارعورتوں میں سے اس جیسی لڑکی کاہو جیسے اس کی بہن،چچازاد،تایازاد یاپھوپھی زاد بہن کامہر تو وہی مہر اس لڑکی کا بھی واجب ہوگا۔
والدلیل علی ذالک
"وان تزوجھا ولم یسم لھا مہرا او تزوجھا علی ان لا مہر لھا فلھا مہر مثلھا" . (الھدایۃ کتاب النکاح باب المہر2/346)
"ھذا اذاکان المہر معجلا او مسکوتا عن التاجیل و التعجیل ۔۔۔۔۔۔فاما اذاکان موجلا و لم یذکر الوقت لشی من المہر اصلا او ذکر وقتا مجھولا جھالۃ متفاحشۃ لم یثبت الاجل لان التاجیل لم یصح لتفاحش الجھالۃ". (بدائع الصنائع فصل فی بیان ما یجب بہ المہر 3/515)
"ولابی حنیفۃان الاشارۃ والتسمیۃ کل واحد منھما وضعت للتعریف الا ان الاشارۃ ابلغ فی التعریف ". (بدائع الصنائع فصل فی ما یصح تسمیۃ مہرا3/496)